اطالوی وزیرِاعظم کا سکولوں میں غیر ملکی طلبا کی تعداد محدود کرنے ،برقع پر پابندی لگانے کا اعلان

روم: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ حکومت سکولوں میں غیر ملکی طلبا کی تعداد محدود کرنے اور تعلیمی اداروں میں برقع و نقاب پر پابندی کے لیے نیا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جارجیا میلونی نے حکمران جماعت ”برادرز آف اٹلی” کے یوتھ ونگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول جانے والی ہر طالبہ کا چہرہ کھلا ہونا چاہیے، کسی نوجوان خاتون سے چہرہ ڈھانپنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:اٹلی جانے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کیلئے اہم انتباہ، غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت ہدایات جاری

انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت کلاس رومز میں غیر ملکی طلبا کی تعداد کی حد مقرر کی جائے گی، جبکہ غیر ملکی طلبا کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔

جارجیا میلونی نے کہا کہ اگر کسی کلاس میں زبان نہ سمجھنے والے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے تو ان کا معاشرے میں انضمام مشکل ہوجاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت اٹلی کے اسکولوں میں زیرتعلیم غیر ملکی طلبا کی شرح 11.6 فیصد ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر 100 میں سے 12 طلبا غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس، آسٹریا، بیلجیم، ڈنمارک، ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ سمیت بعض یورپی ممالک میں بھی چہرہ ڈھانپنے اور مذہبی لباس سے متعلق مختلف نوعیت کی پابندیاں پہلے سے نافذ ہیں۔

اٹلی میں بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے انضمام، مذہبی علامات، شہریت کے قوانین اور امیگریشن پالیسی پر سیاسی اور سماجی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا100 زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان

تحقیقی ادارے فونڈازیونے آئی ایس ایم یو کے مطابق اطالوی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ میں اطالوی شہریت نہ رکھنے والے طلبہ کی شرح 11.6 فیصد ہے، یعنی ہر 100 میں تقریباً 12 طلبہ غیر اطالوی شہری ہیں۔

جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ اٹلی میں ہر طالب علم کو اسکول میں اپنا چہرہ کھلا رکھنا چاہیے اور کسی کو حقیقی یا فرضی روایت کے نام پر کسی نوجوان خاتون کو اپنا چہرہ چھپانے کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔