مشرق وسطیٰ کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے منفی اثرات عالمی منڈی پر براہ راست ظاہر ہونے لگے ہیں، جہاں توانائی کی سپلائی میں خلل کے سنگین خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو سات ڈالر کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے خراب حالات اور سکیورٹی خدشات کے باعث دنیا بھر میں تیل کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں خریداروں کی جانب سے تیل کی خریداری پر نمایاں دباؤ دیکھا جا رہا ہے اور نرخ تیزی سے اوپر جا رہے ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ:

غیر ملکی میڈیا ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں چھ عشاریہ تین فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس نمایاں اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو سات عشاریہ چھہسٹھ ڈالر پر بند ہوئی، جو کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہ راست نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا

امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی زبردست تیزی:

دوسری جانب امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی تاریخ کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ مئی کے وسط کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں چھ عشاریہ سات فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ ایک سو تین عشاریہ آٹھ دو ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں اور بحری سپلائی کے خدشات:

عالمی توانائی کی سپلائی میں اس ممکنہ خلل کے پیچھے بنیادی وجوہات یمن کی موجودہ صورتحال اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یمن میں حوثیوں کی جانب سے بندرگاہی شہر موخا پر قبضے اور اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں مزید بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ان تمام سکیورٹی خدشات اور واقعات کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر توانائی اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جس نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے۔