مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل ومرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری ، بڑے مطالبات پیش

آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل اور مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم کانفرنس کا یہ اجلاس 19جولائی 1947 کو سری نگر میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر مسلم کانفرنس کی جانب سے پاس کی جانے والی قرارداد الحاق پاکستان کو مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کے اسلامی، تاریخی، نظریاتی،جغرافیائی اور سیاسی تعلق کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

یہ اجلاس 5اگست 2019 کے ہندوستانی حکومت کے جموں وکشمیر کی حیثیت اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے تمام اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس وقت کی حکومت پاکستان کی خاموشی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

یہ اجلاس حکومت پاکستان اور نو منتخب آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کی داخلی خودمختاری، ریاستی تشخص، سیاسی وقار اور عوام کے بنیادی جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سردار عتیق ، یعقوب ملاقات ،عہدیداروں کے تحفظات، مسلم کانفرنس میں پھوٹ کی گونج

جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کی رائے میں آزادکشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے جسکی حیثیت میں کوئی تبدیلی قابل قبول نہیں ہوگی۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں اور معاہدہ کراچی کی روح سے آزادکشمیر کے دفاع اور اس میں امن و امان کے قیام کی تمام تر ذمہ داری حکومت پاکستان کے سر ہے جسے پورا کرنے میں کسی لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے۔

یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ آزادکشمیر جیسے پاکستان کے دفاعی حصار،نظریہ الحاق پاکستان کے قلعے اور پرامن خطے کو عدم استحکام، بے چینی اور ہیجان کی تصویر بنا کر کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لازوال رشتے میں دراڑ ڈالنے کی کوششوں کا بروقت سدباب کیوں نہیں کیا گیا اور اس موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔؟

یہ اجلاس چند انتشاری عناصر کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو غیر ملکی، قابض اور غاصب کہنے کی شدید مذمت کرتا ہے اور مسلح افواج پاکستان کے جوانوں کی گزشتہ 8 دہائیوں سے آزادکشمیر کے دفاع کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں اور شہادتوں پر خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس آزادکشمیر کے اندر بڑی تعداد میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش، دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم کانفرنس کو آؤٹ کرنے کی سازش ناقابل قبول، ایکشن کمیٹی والے بھائی ہیں: سردار عتیق

یہ اجلاس پونچھ میں اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی فراہمی میں جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ اجلاس انٹرنیٹ کی بلا تاخیر بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث آزادکشمیر کی فضا قیاس آرائیوں، پراپیگنڈے، غیریقینی اور ہیجان کا شکار ہے۔

یہ اجلاس پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے اپیل کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نشر کیے جانے والے گمراہ کن اور اشتعال انگیز معلومات پر تصدیق کیے بغیر یقین نہ کریں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس پونچھ دھرنے کے بامقصد، سیاسی مذاکراتی حل کا مطالبہ کرتا ہے اور کسی قسم کے آپریشن یا انسانی جانوں کے ضیاع کے عمل کی دوٹوک مخالفت کرتا ہے۔

یہ اجلاس آزادکشمیر کے حالیہ انتخابات کو انتہائی متنازعہ سمجھتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔

یہ اجلاس قرارداد الحاق پاکستان کی داعی،اعلان نیلہ بٹ اور معاہدہ کراچی کی وارث آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کو 1975 کی طرح ایک منظم سازش کے تحت آزادکشمیر اسمبلی سے باہر رکھنے کی مذمت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سردار ساجد اقبال عباسی نے مسلم کانفرنس کا تاریخی قلعہ مسمار کر دیا، آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب سے بڑی لیڈ قائم

یہ اجلاس انتخابات کے دوران وفاقی وزراء کی جانب سے دئیے جانے والے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کرتا ہے جن کے باعث آزادکشمیر میں بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوا۔

یہ اجلاس مرحلہ وار انتخابات کے مرحلہ وار نتائج کو عالمی مسلمہ جمہوری عمل کے منافی قرار دیتا ہے۔ اجلاس حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ پونچھ کی عوام کو جمہوری اور انتخابی عمل میں بلا تاخیر شریک کیا جائے۔