آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کی چار اہم نشستوں پر حیران کن اور غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے। غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کی تفصیلات کے مطابق چار نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کو 2 نشستوں پر جبکہ مسلم لیگ (ن) کو صرف 1 نشست پر برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب دھیرکوٹ کی نشست ایک آزاد امیدوار اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
ایل اے 14 غربی باغ میں تاریخی اپ سیٹ اور برسوں کے بعد پہلی شکست:
انتخابات کا سب سے بڑا اپ سیٹ حلقہ ایل اے 14 غربی باغ میں دیکھنے میں آیا، جہاں عوامی دست و بازو پارٹی کے امیدوار سردار ساجد اقبال عباسی نے بڑا دھماکہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مرکزی صدر سردار عتیق احمد خان کو ان کی آبائی نشست پر تاریخی شکست سے دوچار کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ نشست 1975ء کے بعد سے روایتی طور پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا مضبوط ترین قلعہ سمجھی جاتی رہی ہے اور 1975ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس نشست پر مسلم کانفرنس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سردار ساجد اقبال عباسی نے آزاد کشمیر کے ان حالیہ انتخابات میں تمام حلقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ یعنی 21 ہزار کی تاریخی لیڈ حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل اے 15 وسطی باغ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر کی شاندار کامیابی
ایل اے 15 وسطی باغ: پیپلز پارٹی کو برتری، چترہ ٹوپی میں بائیکاٹ:
حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر کو مسلم لیگ (ن) کے نمائندے مشتاق منہاس پر واضح برتری حاصل ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشنز کے موصولہ نتائج کے مطابق سردار ضیاء القمر کو 1,400 ووٹوں کی سربرتری حاصل ہے۔
اس حلقے کے علاقے چترہ ٹوپی کے تین پولنگ اسٹیشنز پر مقامی آبادی کی جانب سے الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں کے نتائج صفر رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مشتاق منہاس کے مطابق ان بائیکاٹ شدہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کروانے کے آپشن پر غور جاری ہے۔
شرقی باغ: سردار میر اکبر خان کو برتری، 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا امکان:
شرقی باغ کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان کو اپنے مدِ مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان خان پر قریباً دو ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔
تاہم، حلقے کے 12 مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ناخوشگوار واقعات اور جھگڑے کے باعث پولنگ کا عمل معطل ہو گیا تھا اور ووٹ نہیں ڈالے جا سکے تھے۔ الیکشن حکام کے مطابق ان متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ مکمل ہونے کے بعد ہی اس نشست کا حتمی و سرکاری رزلٹ جاری کیا جائے گا۔




