اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کا فیصلہ وزیراعظم نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔
اگر پارلیمنٹ عوام سے رائے لینے کا فیصلہ کرتی ہے اور عوام نئے صوبوں کے حق میں رائے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے بین الصوبائی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کرنے کا راستہ ہے تاہم ریفرنڈم کا فیصلہ وزیراعظم نہیں کریں گے بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے، پیپلزپارٹی کی دورخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں، خواجہ آصف
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی رائے لی جائے تو پھر عوام سے رائے لینی چاہیے اور اگر عوام نئے صوبوں کے حق میں اپنی رائے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ عوام کی رائے کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے طریقہ کار وہی ہے جو آئین میں درج ہے، پارلیمنٹ آئینی طریقہ کار اختیار کرے گی، اگر پارلیمنٹ کو اس طریقہ کار سے قبل عوام کی رائے لینی ہے تو لے لے اور پھر لوگوں کی رائے کی پاسداری کرے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بحث کچھ اور دن چلے گی، اس کے بعد یہ بحث پارلیمنٹ میں جائے گی، چونکہ سینیٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے تو میرے خیال میں پہلے یہ بحث سینیٹ میں جائے گی۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ سینیٹ میں نئی کمیٹی بنے گی یا پہلے سے موجود کسی کمیٹی کے سپرد یہ بحث ہوگی، جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی بھی ہوگی اور سیاسی جماعتوں کی نمائندگی بھی ہوگی۔
پارلیمان میں ہر پارٹی کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف بیان کرے، وہاں جو اتفاق رائے ہوگا اس کے مطابق معاملہ آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب اختیارات وفاق کے پاس تھے تو اس وقت صوبے مطمئن نہیں تھے اور صوبوں میں احتجاج تھا، جب اختیارات وفاق سے صوبوں کو گئے ہیں تو مسائل وہاں بھی اکٹھے ہوگئے ہیں۔
صوبے کے وزیراعلیٰ کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ کس علاقے کے لیے کتنے ترقیاتی فنڈز دے، کہیں تھوڑے فنڈز دے اور کہیں زیادہ۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کے ارتکاز کا مسئلہ ہے، لوگوں کا ہدف ڈیوولوشن ہے، جب تک ڈیوولوشن نہیں ہوگا آپ چھوٹا صوبہ بنالیں، بڑا صوبہ بنالیں، آپ بلدیاتی نظام کو امپاور کریں۔
ڈیوولوشن کے مسئلے کو اب حل ہوکر رہنا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ 18ویں ترمیم کے بعد جو اختیارات صوبوں کے پاس گئے ہیں وہ صوبائی دارالحکومتوں کے پاس ہی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد ٹھیک نہیں،27ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2سال پیچھے لے جائیگا، رانا ثنااللہ
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اختیارات ڈویژنز، اضلاع اور یونین کونسل کی سطح تک نیچے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے دہلی میں چیف منسٹر ہے، لندن اور نیویارک میں طاقت میئر کے پاس ہے، یہ ساری چیزیں زیر غور ہیں، آنے والے وقت میں ان دو میں سے کسی ایک چیز پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے، مگر اس وقت توجہ بلدیاتی انتخابات پر ہے۔




