حریت رہنما یاسین ملک کی بڑی بہن عابدہ ملک نے انکشاف کیا ہے کہ یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں میں اپنے مقدمات کی پیروی نہ کرنے اور زندگی کی بھیک نہ مانگنےکا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
بھارتی ٹی وی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں عابدہ ملک نے بتایا کہ یاسین ملک نے شدید عدالتی معاندانہ روئیے اور ممکنہ پھانسی کے پیشِ نظر اپنی اہلیہ مشعال ملک کو تنہا زندگی کے صدمےسے بچانے کے لیے اپنے نکاح سے آزاد کر دیا ہے جبکہ اپنی معصوم بیٹی اور والدہ کو صبر کی تلقین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یٰسین ملک کی صاحبزادی رضیہ سلطانہ کی طبیعت خراب، ہسپتال منتقل، دعاوں کی اپیل
عابدہ ملک کے مطابق ایڈووکیٹ عادل پنڈت کے ذریعے یاسین ملک کا پیغام ملنے پر اشٹام پیپر جیل بھیجا گیا تھا مگر جب اس پر تحریر شدہ حلف نامہ اور وصیت کی کاپی سامنے آئی تو اہل خانہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس تحریر پر پہلے عدالت سے رجوع کیا گیا لیکن درخواست مسترد ہونے پر اسے موبائل کے ذریعے بین الاقوامی اور بھارتی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھیجا گیا۔
اسی دوران یاسین ملک کی معصوم بیٹی رضیہ سلطان کے جذباتی پیغام نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔
مشعال ملک سے الگ ہونے کے حوالے سے عابدہ ملک نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کی کی کوئی ناچاقی یا منفی وجہ نہیں ہے۔
یاسین ملک نے اپنی وصیت میں لکھا کہ مشعال مجھ سے 20 سال چھوٹی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ میری عدم موجودگی میں تنہا اور بے کس زندگی گزاریں، اس لیے میں انہیں اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں تاکہ وہ دوسری خوشگوار زندگی گزار سکیں۔
عابدہ ملک کا کہنا تھا کہ مشعال ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اور یاسین ملک نے آخری وقت میں بھی ان کے ساتھ وفاداری اور محبت کا رشتہ نبھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی ہائی کورٹ میں یاسین ملک کیس کی سماعت
انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی وصیت کی ہے کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھے اور انہیں تسلی دیتی رہے۔
حریت رہنما کی موجودہ حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی بہن نے بتایا کہ حال ہی میں جب بھائی سے بات ہوئی تو وہ شدید مایوس تھے اور ان کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تھے۔
یاسین ملک نے اپنی والدہ کو وکیل کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ میں نے خدا کے ساتھ سودا کر لیا ہے اور میں اب اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔
انہوں نے والدہ سے التجا کی کہ اگر اللہ کے پاس ان کا رزق اور زندگی ہے تو وہ زندہ رہیں گےبصورت دیگر وہ شہادت یا موت کو خوشی سے قبول کریں گےجسے میری ماں آپ اور خاندان والوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔
عابدہ ملک نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یاسین ملک کا رویہ ہمیشہ بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کے ساتھ محبت پر مبنی رہا ہے۔
عابدہ ملک نے بتایا کہ سرلا بھٹ واقعے کے وقت یاسین ملک 4 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانے کے باعث کوما میں تھے لہٰذا ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حریت رہنما یاسین ملک کا مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ کولکتہ سے تعلق رکھنے والی صحافی سونیا جبار کا ان کے گھر طویل قیام، 2010 کے کشیدہ حالات میں یاتریوں کی امداد، اور سیلاب کے دوران مسلم آبادی سے پہلے مندروں اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو راحت پہنچانا یاسین ملک کے انسان دوست روئیے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرتشدد پتھراؤ کے دنوں میں یاسین ملک نے خود اپنی بہن کو مندر کے باہر پہرہ دینے کے لیے بٹھایا تھا تاکہ وہاں مقیم ہندو فیملیز محفوظ رہ سکیں، ایسے میں یاسین ملک کو کس کی پاداشت میں جیل میں بند کر رکھا ہے۔




