گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 9 (اسکردو-III) میں ہفتے کے روز ہونے والے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی اور ایک آزاد امیدوار کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے اس حلقے میں ضمنی انتخاب کا اعلان اس وقت کیا جب گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فدا محمد ناشاد کو نااہل قرار دے دیا جنہیں جون میں ہونے والے انتخابات میں کامیاب امیدوار قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اخراجات میں 2ارب کی بچت ، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے بڑا دعویٰ کردیا
اب ناشاد کے صاحبزادے اختر عباس پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے محمد اجمل میدان میں ہوں گے۔
سابق وزیر محمد سلیم بھی بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیںاور مجموعی طور پر 10 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
انتخابی شیڈول کے مطابق اس حلقے میں 33 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، اور پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے بتایا کہ جی بی اے 9 (اسکردو-III) کے ضمنی انتخاب کے لیے سکیورٹی، پولنگ عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ووٹرز کو بغیر کسی خوف کے اپنا ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اختر عباس ناشاد اور آزاد امیدوار محمد سلیم کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا امیدوار اپنے والد کا ووٹ بینک برقرار رکھے ہوئے ہے اور گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ناشاد کی نااہلی کے بعد اسے عوامی ہمدردی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب محمد سلیم جو سن 2020 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے کامیاب ہوئے تھے 7 جون کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:موجودہ ماڈل ناکافی،وزیراعظم کو بیل آئوٹ پیکیج کی سفارش کی ہے، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
یاد رہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ نے 9 جولائی کو اپنے فیصلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ناشاد کو کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپانے پر نااہل قرار دے دیا اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت انہیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔
سپریم اپیلیٹ کورٹ نے 25 مئی 2026 کو جاری کردہ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیا اور الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
واضح رہے کہ فی الحال گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی 13، مسلم لیگ (ن) کی 9، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی 6 نشستیں ہیں جبکہ مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایک آزاد رکن کی ایک ایک نشست ہے۔




