امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی دھمکی کام کر گئی ہے اور حکومت نے آج ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کے معاملے پر جماعت اسلامی کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے حکومتی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ملاقات کرے گا۔
ملاقات کا بنیادی مقصد جاری احتجاجی دھرنے کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنا اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر حکومتی موقف سے آگاہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آج ہڑتال ، مسئلہ حل نہ ہوا تو حکومت گراؤ تحریک چلائیں گے، حافظ نعیم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اور احتجاجی صورتحال پر مذاکرات کی پیشکش کی۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں رانا ثنا اللہ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں گے۔
حکومتی نمائندے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں احتجاجی تحریک، پیٹرولیم لیوی اور عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومتی مذاکراتی پیشکش پر حتمی جواب دینے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔
حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ مذاکرات لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کسی بھی مناسب مقام پر کیے جا سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی جانب سے گزشتہ کئی ہفتوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی لائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد ٹھیک نہیں،27ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2سال پیچھے لے جائیگا، رانا ثنااللہ
حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کو موجودہ احتجاجی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات میں اگر دونوں فریق کسی قابل قبول حل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی سرگرمیوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز ہی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےحکومت کو دھمکی دی تھی کہ معاملہ حل نہ ہوا تو حکومت گرائو تحریک شروع کی جائے گی۔




