راولاکوٹ کی کمسن طالبہ کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام جذباتی خط وائرل ہو گیا

Pakistan SCO Summit 2026

آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں گزشتہ تقریباً 3 ماہ سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنوں کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش نے طلباء و طالبات کے تعلیمی مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

طویل عرصے سے سکول نہ جا سکنے کی وجہ سے طلباء و طالبات میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ادارے کھلوانے کے لیے اب تک کوئی موثر پیشرفت سامنے نہیں آسکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم افتخار گیلانی کی زیرصدارت پہلا اجلاس، اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا فیصلہ

اسی صورتحال کے پیش نظر راولاکوٹ کی ایک کمسن طالبہ عمار فاطمہ نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام ایک جذباتی خط تحریر کیا ہے۔

خط میں طالبہ نے معصومانہ انداز میں وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ان کا اسکول کھولا جائے تاکہ وہ اور دیگر بچے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرسکیں اور ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

معصوم طالبہ کا یہ خط سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہا ہے، جہاں شہریوں اور تعلیمی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہونا انتہائی تشویشناک ہے، تعلیمی اداروں کی طویل بندش سے براہ راست بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

عوامی حقوق کے مطالبات اپنی جگہ، لیکن احتجاج کے نام پر تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش اور معمولات زندگی میں خلل قابل تشویش ہے۔

ناقدین کی جانب سے  کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ عناصر پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی حقوق کی آڑ میں نظریاتی تخریب کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر کے8 اضلاع میں انٹرنیٹ بحال،راولاکوٹ، سدھنوتی میں سروس معطل رہے گی

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے معاملات کو  حل کیا جائے اور بچوں کی تعلیم کو کسی بھی صورت میں تنازع کا شکار نہ بنایا جائے۔

دوسری طرف راولاکوٹ سے پونچھ یونیورسٹی ، میڈیکل کالج سمیت کئی اداروں نے اپنی کلاسز دوسرے شہروں میں منتقل کردی ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026