پاکستان نے 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا

اسلام آباد: پاکستان نے مالیاتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا ہے، جسے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی واحد قبل از وقت قرض ادائیگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کیا۔

مالی سال اور اب تک کی مجموعی ادائیگیوں کے اعداد و شمار

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق اس تازہ ترین ادائیگی کے بعد پاکستان کی قبل از وقت قرض ادائیگیوں کا مجموعی حجم بڑھ کر تقریباً 5,920 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اگست 2025 میں 1,133 ارب روپے کی ریکارڈ قبل از وقت ادائیگی کی تھی، تاہم حالیہ 1200 ارب روپے کی ادائیگی نے اس پچھلے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غریبوں کے نام پربینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں افسر شاہی کے مزے!

خرم شہزاد نے مالیاتی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ مالی سال 26-2025 میں اب تک مجموعی طور پر 2,900 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کیا گیا ہے، جبکہ جاری مالی سال 27-2026 میں اب تک مزید 1,200 ارب روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

سرکاری مالیاتی پوزیشن اور قرضوں کے دباؤ میں کمی

مشیر خزانہ نے کہا کہ ان قبل از وقت ادائیگیوں کے نتیجے میں ملک کے مجموعی قرض کے حجم میں نمایاں کمی آئے گی اور آنے والے سالوں میں بڑی رقم کی ادائیگیوں کا مالیاتی دباؤ بھی کم ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ڈیٹ مینجمنٹ (قرضہ جات کا نظام) اب محض روایتی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کی سرکاری مالی پوزیشن کو مستحکم بنانے کی سمت میں کامیابی سے گامزن ہے۔

مزید پڑھیں: دس روپے کا نوٹ ختم کرنے پرغور کیا جارہا ہے، ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک