جرمنی کے مصروف ترین فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ملیریا کے نایاب پھیلاؤ کے نتیجے میں 6 ملازمین شدید متاثر ہو گئے ہیں، جن میں سے 2 افراد کی جان چلی گئی ہے۔ جرمن محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق ملیریا پھیلانے والے متاثرہ مچھر کسی طیارے کے ذریعے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جس کے بعد جولائی کے مہینے میں اس وبا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
حکام کے مطابق متاثرہ تمام 6 افراد ایئرپورٹ کے مختلف شعبوں اور مختلف سائٹس پر کام کرنے والے مرد ملازمین تھے۔ اس وقت ماہرین تمام متاثرہ ملازمین کے خون کے نمونوں کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح طور پر معلوم کیا جا سکے کہ تمام افراد ایک ہی مچھر کے کاٹنے سے بیمار ہوئے یا مختلف مچھروں نے انہیں نشانہ بنایا۔
ایئرپورٹ پر حفاظتی اقدامات اور تحقیقاتی عمل
صورتحال کے پیش نظر ایئرپورٹ کے احاطے میں مچھروں کو پکڑنے کے لیے خصوصی جال نصب کر دیے گئے ہیں اور پکڑے جانے والے تمام مچھروں کو لیبارٹری بھیجا جا رہا ہے تاکہ ان کی نسل اور ممکنہ ماخذ کا تعین کیا جا سکے۔ فرینکفرٹ کے محکمہ صحت کے مطابق عام شہریوں اور آبادی کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے، کیونکہ ملیریا انسان سے انسان کو منتقل نہیں ہوتا بلکہ یہ مخصوص اقسام کے مچھروں کے کاٹنے سے ہی پھیلتا ہے۔ تاہم، متاثرہ مچھروں سے متعلق لیبارٹری کی حتمی رپورٹ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں ہنر مند افرادکیلئے ملازمتوں کا بڑاموقع، درخواستیں طلب
عالمی ادارہ صحت اور رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کی وضاحت
جرمنی کے معتبر رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ملک میں ملیریا کے زیادہ تر کیسز ان افراد میں رپورٹ ہوتے ہیں جو ملیریا سے متاثرہ ممالک کا سفر کر کے واپس آتے ہیں، جبکہ کسی جرمن ایئرپورٹ پر مقامی طور پر ملیریا منتقل ہونے کے واقعات انتہائی نایاب ہوتے ہیں۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اس سے قبل بھی 2023 میں ملیریا کا ایک کیس سامنے آیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھی ملیریا مخصوص اقسام کے مچھروں کے ذریعے ہی پھیلتا ہے اور اس کے زیادہ تر کیسز گرم و استوائی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔




