ایف بی آر

کاروبار کو ایف بی آر سے منسلک کریں ورنہ 50 لاکھ تک جرمانہ ہوگا

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) کاروبار کو ایف بی آر کے مانیٹرنگ، ٹریکنگ، رپورٹنگ یا فروخت و پیداوار کے ریکارڈ سے متعلق نظام کے ساتھ منسلک نہ کرنے پر سخت جرمانوں اور دیگر کارروائیوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فنانس ایکٹ 2026 کے تحت ایسے کاروباری افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی جو مقررہ مدت کے اندر اپنے کاروبار کو ایف بی آر یا اس کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ مربوط کرنے میں ناکام رہیں گے۔

قانون میں ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے، کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی بہتر بنانے اور فروخت و پیداوار کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرنےکیلئے سخت اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

قانون کے مطابق جو شخص اپنے کاروبار کو ایف بی آر یا متعلقہ کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ مقررہ مدت میں منسلک نہیں کرے گا، اس پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

حکام کی جانب سے سزا عائد کیے جانے کے باوجود اگر کاروباری شخص اپنی خلاف ورزی ختم نہیں کرتا تو اس کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کو بڑا ریلیف دیدیا

فنانس ایکٹ کے تحت پہلی سزا عائد ہونے کے1 ماہ بعد بھی اگر خلاف ورزی جاری رہتی ہے تو کاروباری شخص پر 50 لاکھ روپے تک دوسرا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ قانون میں بعض خلاف ورزیوں کی صورت میں کاروباری احاطہ سیل کرنے کی کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت پیدا کرنا، فروخت اور پیداوار کے درست ریکارڈ کو یقینی بنانا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

حکام کے مطابق ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے کاروباروں کا رابطہ ٹیکس معاملات کی نگرانی اور ریکارڈ کی بروقت رپورٹنگ میں معاون ثابت ہوگا۔

 مزید یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز ٹیکس نیٹ میں آگئے ؟ ایف بی آر قواعد تیار، اہم نوٹیفکیشن جاری

کاروباری افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مقررہ مدت میں اپنے کاروبار کو ایف بی آر کے نظام سے منسلک کریں تاکہ جرمانوں اور دیگر قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔