اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر سائبر فراڈ اور فحش مواد سے متعلق عالمی نیٹ ورک چلائے جانے کے معاملے کے بعد وفاقی حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کال سینٹرز کیخلاف کارروائی کیلئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے ماتحت کام کرے گی۔ ٹاسک فورس کو غیر قانونی کال سینٹرز کی نشاندہی، تحقیقات اور کارروائیوں کو مربوط بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری آپریشن سے متعلق تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر وزارت داخلہ کو فراہم کی جائیں گی تاکہ کارروائیوں کی نگرانی اور پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو بھی ٹاسک فورس کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایات جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جعلی کالز اور ایس ایم ایس، پی ٹی اے نے الرٹ جاری کردیا
حکام کے مطابق خصوصی ٹاسک فورس مبینہ طور پر بھتہ خوری، بلیک میلنگ، گیمبلنگ، سکیمنگ اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث کال سینٹرز کی تحقیقات کرے گی۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں قائم کال سینٹرز کی ایک فہرست بھی مرتب کرلی گئی ہے، جس کی بنیاد پر مشتبہ مراکز کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل اسلام آباد میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر کارروائی کے دوران 284 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد ملک میں غیر قانونی کال سینٹرز اور مبینہ سائبر جرائم کے نیٹ ورکس کیخلاف نگرانی اور کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت پر پابندی کی منظوری دے دی، سمری وفاق کو ارسال
حکومت کی جانب سے ملک گیر آپریشن کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، سائبر جرائم کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور شہریوں کو فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر جرائم سے تحفظ فراہم کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔




