اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بیک چینل رابطہ نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بیک چینل یا سیاسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کو دال میں کالا نظر آرہا ہے، اگر ایسا کچھ ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کا چھوٹے انتظامی یونٹس، نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن سے ملاقات تبدیلی نہیں بلکہ مثبت عمل ہے۔
صوبوں کے لیے 28ویں ترمیم کی ضرورت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبوں کے لیے پیشرفت ہونی ہے تو اس کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ صوبوں کے لیے کوئی ترمیم لائی جارہی ہے، کوئی چیز آنی ہے تو کابینہ میں آئے گی۔
عمران خان کے علاج سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے علاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، نواز شریف کا کیس مختلف تھا۔ جیل سے مریض کو سرکاری اسپتال میں ہی لایا جاتا ہے، جیل اسپتال میں انجیوگرافی کی سہولت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں کے انتخابات،12خواتین کے نام بلاول بھٹو کو ارسال
انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں عمران خان کی انجیوگرافی نہیں ہوئی۔ کسی کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو انجیوگرافی ہوتی ہے، میرا خیال ہے کہ عمران خان کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کو کئی مرتبہ پمز اسپتال لایا گیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ریلیف ملے گا، تاہم بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا،سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح کمیٹڈ ہے۔




