سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو مکمل طبي معائنے کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی اپنے اہل خانہ سے ملاقاتوں اور طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر میڈیکل ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا گیا تو پھر وہ خفیہ نہیں رہے گا۔
بہنوں کی ملاقات آئینی و قانونی حق ہے: جسٹس شاہد وحید:
جسٹس شاہد وحید نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کی بہنوں سے ملاقات کروانا کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے قیدیوں سے ملاقاتوں کے تمام معاملے میں قانونی تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی آنکھ نارمل ،ڈاکٹرز روزانہ چیک اپ کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کی ان کی بہنوں کے ساتھ کل 48 ملاقاتیں کروائی جا چکی ہیں۔
میڈیا پر بیان نہ دینے کی ضمانت اور عدالت کے احکامات:
سماعت کے دوران وکیل عزیر بھنڈاری نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کے بعد بہنیں میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں کریں گی۔ اس پر جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے، جس پر عزیر بھنڈاری نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کے وکیل کی حیثیت سے ان کی درخواست پر یہ ضمانت دے رہے ہیں۔
عزیر بھنڈاری نے عدالت سے درخواست کی کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت دی جائے اور شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں ان کا مکمل معائنہ کروایا جائے۔ اس موقع پر جسٹس نعیم افغان نے واضح کیا کہ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کسی قسم کی سیاست نہیں کی جائے گی۔
سزا، ضمانت اور قید کے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب:
جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج تمام قانونی مقدمات کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔ انہوں نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کتنے کیسز میں سزا ہو چکی ہے، کتنے مقدمات میں وہ ضمانت پر ہیں اور زیر سماعت کیسز کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے جیل ٹرائل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر سے جیل ٹرائل معطل ہے، تاہم جیل کے اندر سماعتوں کے دوران لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے صحت، ملاقاتوں، ٹیلی فون پر بچوں سے گفتگو اور قانونی کیسز کا مکمل ریکارڈ حاصل کرتے ہوئے سماعت آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔




