ٹرمپ

ٹرمپ کی پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کی تصدیق،عمان پر بمباری کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسدارانِ انقلاب فورس کے ساتھ خفیہ رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود سفارتی حل کے لیے وقت موجود ہے۔

انہوں نے عمان کو بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کی تو اس پر بھی شدید بمباری کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہو کر استعفا دیا، ایران کا دعویٰ

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں، آبنائے ہرمز اور اسرائیل سے متعلق کئی اہم امور پر گفتگو کی۔

ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں سفید جھنڈا لہرا ہوئے شکست کا اعلان اور ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ثالثوں اور ایرانی سیاسی عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست ایک بیک چینل موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ پیر کو 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو جائے گی تاہم اس کے باوجود ایران کے پاس مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ تہران کے پاس کسی بھی صورت جوہری ہتھیار نہیں چاہئیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کردار کے بارے میں سوال پر عمان کو بھی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمان اس عمل میں رکاوٹ بنا تو ہم اس پر بھی شدید بمباری کریں گے۔

واضح رہے کہ عمان ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل اور جہاز رانی سے متعلق انتظامات پر اس کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے روک دینے چاہئیں، ہم حماس کے ساتھ رابطے میں ہیں، حماس اپنے ہتھیار ڈالنے پر تیار ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے جنگ کے باعث امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اب تک اپنے ہتھیاروں کا بہت محدود حصہ استعمال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز پر امریکی دعوے کے خلاف ایران کا سخت ردعمل

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو کچھ استعمال کیا ہے وہ بہت معمولی ہے، ہمارے پاس اب بھی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ موجود ہے۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کے ساتھ بیک ڈور چینل کے ذریعے رابطے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔