سرکاری ملازمین

سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر: وفاقی حکومت نے نیا پنشن نظام نافذ کر دیا

سرکاری ملازمین کے پنشن نظام میں بڑی تبدیلی کے بعد وفاقی حکومت نے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم 2024 کو عملی طور پر نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

اسلام آباد سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس سلسلے میں اسکیم کے قواعد و ضوابط جاری کرتے ہوئے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کو ضروری کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

نئی پنشن اسکیم کا دائرہ کار اور ملازمین کا ڈیٹا:

حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو نئی پنشن فنڈ اسکیم کے دائرہ کار میں آنے والے تمام ملازمین کی مکمل فہرستیں تیار کرنا ہوں گی۔ متعلقہ اداروں کو ملازمین کا تمام تر ڈیٹا اور ضروری اسناد اے جی پی آر کے ریکارڈ کے ساتھ 15 روز کے اندر لازمی اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نئے پنشن نظام پر عملدرآمد کی کامل نگرانی کے لیے ہر وزارت اور ڈویژن کو گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسر کو بطور فوکل پرسن مقرر کرنا ہوگا۔ یہ فوکل پرسن اسکیم سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی، متعلقہ شعبوں کے ساتھ رابطہ اور مطلوبہ معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

انتظامی ذمہ داریاں اور وزارت خزانہ کا کردار:

وزارتوں اور ڈویژنز کو نئی اسکیم پر عملدرآمد کے لیے ضروری افسران اور متعلقہ شعبوں کو بھی نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ ملازمین کا ریکارڈ مرتب کرنے اور پنشن فنڈ سے متعلق کارروائی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ وزارت خزانہ کے ہیومن ریسورس ونگ کو نئی پنشن اسکیم پر عملدرآمد یقینی بنانے کی مرکزی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل اے 14 باغ 1 کے حتمی و سرکاری انتخابی نتائج جاری: ساجد اقبال 40,522 ووٹ لے کر نمایاں

اس کے علاوہ کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس کو اے جی پی آر کے تعاون سے وفاقی ملازمین کا جامع ڈیٹا تیار کرنے کی باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق ملازمین کا ڈیٹا وزارت، ڈویژن، محکمہ اور گریڈ کے لحاظ سے مرتب کیا جائے گا تاکہ نئی پنشن اسکیم کے دائرہ کار میں آنے والے تمام ملازمین کا مکمل اور درست ریکارڈ دستیاب ہو سکے۔

نئے اور روایتی پنشن نظام میں بنیادی فرق:

نئے نظام میں روایتی طریقہ کار کے برعکس پنشن کی مکمل ذمہ داری حکومت پر رکھنے کے بجائے ملازم اور حکومت کی جانب سے مقررہ کنٹری بیوشن کے ذریعے پنشن فنڈ تشکیل دینے کا تصور شامل ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم کو ملنے والی رقم کا انحصار فنڈ میں جمع ہونے والی رقم، اس کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع اور دیگر متعلقہ عوامل پر ہو سکتا ہے۔

یہ نظام روایتی Defined Benefit پنشن نظام سے بالکل مختلف ہے، جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا تعین پہلے سے موجود قواعد، ملازم کی سروس اور دیگر مقررہ عوامل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نئی اسکیم کو آپریشنل مرحلے میں لانے کے فیصلے کے بعد متعلقہ وزارتوں اور محکموں میں ملازمین کے ریکارڈ کی جانچ، تصدیق اور اندراج کا باضابطہ عمل شروع ہوگا۔

حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت میں ملازمین کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے اور نئی پنشن فنڈ اسکیم پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ نئے نظام کے تحت آنے والے وفاقی ملازمین کا ریکارڈ مکمل اور درست انداز میں مرتب کیا جا سکے۔