مسائل حل کیلئے نعروں کے بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے، طارق فاروق

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی سیکرٹری جنرل ، نو منتخب رکن اسمبلی ، سینئر پارلیمنٹرین چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج مسلم لیگ ن کی تنظیمی قوت، کارکنوں کے اتحاد اور قائد میاں محمد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا واضح اظہار ہیں۔

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں آئندہ مرحلے میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلا شرکتِ غیرے حکومت تشکیل دے گی۔ مظفرآباد، پونچھ اور مہاجر حلقوں کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاکہ آزاد کشمیر میں ایک مستحکم، بااختیار، تجربہ کار اور ترقی پسند حکومت قائم کی جا سکے۔

وہ مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں نو منتخب ممبر اسمبلی حلقہ سماہنی چوہدری محمد رزاق ، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری عظیم بخش اور مسلم لیگ ن برطانیہ کے چیئرمین چوہدری جہانگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی قیادت اپنے تمام عہدیداران، کارکنان، ووٹرز اور بالخصوص میرپور ڈویژن کے عوام کی شکر گزار ہے جنہوں نے انتہائی صبر، سلیقے، حکمت، دانش، تدبر اور جوش و جذبے کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستوں پر مسلم لیگ ن کی کامیابی ایک غیر معمولی سیاسی کامیابی ہے۔ یہ محض چند نشستوں کا حصول نہیں بلکہ عوام کی جانب سے مسلم لیگ ن کے تعمیر و ترقی ، خوشحالی، روزگار، بہتر حکمرانی اور عوامی خدمت کے ایجنڈے پر اعتماد کا اظہار ہے۔

نواز شریف کا وژن، آزاد کشمیر کی ترقی کا ایجنڈا

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا منشور محض انتخابی وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ میاں محمد نواز شریف کے اس ترقیاتی وژن کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں کا استحکام، معاشی ترقی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تعلیم، صحت، بجلی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور عام آدمی کو ریلیف بنیادی ترجیحات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا محور ترقی اور عوامی خدمت ہے۔ آزاد کشمیر کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سیاسی انتشار کے بجائے پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھے، اداروں کو مضبوط کرے اور دستیاب وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں بجلی کے مسائل کے مستقل حل، ہائیڈرو پاور کے مواقع سے استفادہ، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری، صحت کے جدید مراکز، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع، سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

پارٹی کے منشور کے ابتدائی خدوخال میں بھی معاشی استحکام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مقامی و بڑے پن بجلی منصوبوں کی حوصلہ افزائی، بجلی کی لاگت میں کمی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حالیہ کامیابی دراصل میاں محمد نواز شریف کی تعمیر و ترقی کی سوچ اور آزاد کشمیر کو خوشحال بنانے کے وژن کو عوام کی طرف سے پذیرائی ملنے کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ موٹرویز، شاہرات، بجلی کے منصوبوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔ آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ ن اسی سوچ کو آگے لے کر چلنا چاہتی ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی کامیابی کا اصل کریڈٹ پارٹی کے کارکنوں کو جاتا ہے۔ قیادت نے ٹکٹ دیے، امیدواروں نے انتخابات لڑے، لیکن کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات محنت کرنے والے کارکن تھے جنہوں نے گھر گھر جا کر پارٹی کا پیغام پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ جن امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہیں ملا، ان میں سے اکثریت نے جماعتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ یہ مسلم لیگ ن کی تنظیمی پختگی اور کارکنوں کی قیادت سے وابستگی کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرپور ڈویژن میں بعض عناصر اس انتظار میں تھے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد مسلم لیگ ن میں اختلافات پیدا ہوں گے، جماعت تقسیم ہو گی اور کارکن ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جائیں گے، مگر پارلیمانی بورڈ، پارٹی قیادت اور میاں محمد نواز شریف کی مشاورت سے ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل نے ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کر دیا۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ جنہیں ٹکٹ نہیں ملا، انہوں نے بھی جماعت کو نہیں چھوڑا؛ جنہیں ٹکٹ ملا، انہوں نے بھی کارکنوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔ یہی مسلم لیگ ن کی اصل قوت ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:رواں سال اب تک دہشتگردی کیخلاف 40 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے ، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج نے ثابت کیا ہے کہ مسلم لیگ ن ایک منظم، متحد اور کارکنوں کی جماعت ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں آزاد کشمیر میں مسلسل حکومتوں کی تبدیلی سے سیاسی اور انتظامی استحکام متاثر ہوا۔ 2021 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومتی معاملات، سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور ادارہ جاتی نظم کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آئینی و انتظامی اختیارات کے مؤثر استعمال، اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک مستحکم، منظم، تجربہ کار اور سنجیدہ حکومت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے آئینی ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت کو بااختیار بنانے کی بنیاد رکھی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اختیارات کو عوامی فلاح، شفاف حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی مسائل کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنا ہو گا۔ بجلی کی پیداوار کے لیے آزاد کشمیر کے پن بجلی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو سستی بجلی کی فراہمی، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعت و کاروبار کے فروغ پر توجہ دینا ہو گی۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے نتائج کو محض ایک انتخابی مرحلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ نتائج آئندہ مرحلے کے لیے بھی ایک سیاسی پیغام رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد مظفرآباد، پونچھ اور مہاجر حلقوں میں بھی پارٹی کارکنوں کا حوصلہ بلند ہے۔ میرپور کی ہوا کا اثر باقی آزاد کشمیر میں بھی نظر آئے گا۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی مرحلے کے اگلے مرحلے میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں رہیں، گھر گھر جا کر پارٹی منشور اور ترقیاتی پروگرام عوام تک پہنچائیں اور اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔

چوہدری طارق فاروق نے آزاد کشمیر کی صحافی برادری کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود صحافیوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا نے حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کا مؤقف بھی عوام تک پہنچایا، جس سے عوام کو سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور پروگراموں کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی نتائج پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ سیاسی اعتراضات اپنی جگہ لیکن قانونی معاملات کے لیے قانون میں باقاعدہ فورمز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی امیدوار یا جماعت کو انتخابی عمل کے حوالے سے اعتراض ہے تو اسے متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔ سیاسی معاملات کو دھمکی آمیز زبان یا الزام تراشی کے ذریعے مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی نوعیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری روایات اور باہمی احترام کو برقرار رکھنا چاہیے۔وفاق اور آزاد کشمیر کی سیاست کو ایک ہی پیمانے سے نہ دیکھا جائے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہو گی، لازماً آزاد کشمیر میں بھی اسی جماعت کی حکومت قائم ہو گی۔

آزاد کشمیر کے اپنے سیاسی حالات، مسائل اور انتخابی ترجیحات ہیں۔مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی کامیابی پر اسے مبارکباد دی کیونکہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سیاسی اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتی اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں۔

چوہدری طارق فاروق نے 12 نشستوں کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کس نے آگ لگائی، یہ بھی سب جانتے ہیں، لیکن اب مسلم لیگ ن کا مقصد اس ہاتھ کو روکنا ہے جس نے اس معاملے کو سیاسی تنازع میں تبدیل کیا۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے جلسے دیکھ لیے ہیں، دونوں جماعتوں کی سیاست اور پروگرام ان کے سامنے ہیں۔ اب عوام کے پاس اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع ہے۔

انہوں نے مظفرآباد، پونچھ اور مہاجر حلقوں کے عوام اور بالخصوص مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ مرحلے میں پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی منزل صرف حکومت کا قیام نہیں بلکہ ایک مستحکم حکومت، مضبوط ادارے، بہتر حکمرانی، عوامی خدمت اور آزاد کشمیر کی معاشی و سماجی ترقی ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر عوام نے مسلم لیگ ن کو واضح مینڈیٹ دیا تو پارٹی میاں محمد نواز شریف کے وژن کے مطابق آزاد کشمیر کو ترقی، خوشحالی، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی، بہتر سڑکوں اور مضبوط معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔