ملک میں ایف آئی اے اور نیب پر مکمل اعتمادکرنے والوں کی شرح منتخب اور انتظامی اداروں سے زیادہ ہے۔یہ انکشاف انسٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے سروے میں ہوا ہے۔
سروے کے مطابق 33 فیصد افراد نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے جبکہ 23 فیصد نے قومی احتساب بیوروپر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی سے رشوت طلب، بجٹ کا 43 فیصدقرض ادائیگی میں خرچ ،نیشنل سٹیزن سروے
اس کےبرعکس پارلیمنٹ پر 15فیصد افراد، صوبائی حکومتوں پر 17فیصد، بلدیاتی حکومتوں پر 18 فیصد نے اعتماد کیا۔
سروے کے مطابق ایف بی آر ، مقامی عدالتوں اور پولیس پر اعتماد کا اظہار کرنے والوں کی شرح 22 فیصد دیکھی گئی۔
سروے میں 18 فیصد نے سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کا سامنا کرنے کا کہا، البتہ 77 فیصدنے انکار کیا۔
حیران کن طور پر کرپشن کے خلاف 31فیصد نے سب سے پہلے پولیس ،جس کے بعد 19فیصد نے نیب ،14 فیصد نے عدالتوں جبکہ 13 فیصد نے ایف آئی سے رابطہ کرنے کا کہا، حالانکہ سروے میں پولیس پر اعتماد کرنے والوں کی شرح ایف آئی اے اور نیب سے کم دیکھی گئی۔
پاکستانی عوام میں منشیات کے خلاف غیر معمولی قومی اتفاق رائے سامنے آیا ہے، جبکہ 79 فیصد شہری منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں۔
قومی سطح پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 77 فیصد پاکستانیوں کو گزشتہ ایک سال کے دوران رشوت طلب کیے جانے کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد کی کم ترین سطح پر آگئی، رائٹرز سروے کے انکشافات
عوام میں غیر مصدقہ اور بیرونی اثرات سے متاثر رپورٹنگ کے بارے میں بھی تنقیدی شعور نمایاں پایا گیا، جبکہ پاکستانی عوام سوشل میڈیا کے سماجی اثرات سے متعلق واضح آگاہی رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں کے علاوہ دیہی اور شہری علاقوں میں بھی قومی مسائل کے ادراک کے حوالے سے وسیع ہم آہنگی سامنے آئی ہے۔




