اسلام آباد( کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی نیشنل پریس کلب آمد،این پی سی کی ویب سائٹ کا افتتاح کردیا۔
وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نےکہا کہ نیشنل پریس کلب میں دو ماہ کے اندر جدید ڈیجیٹل لیب بنائیں گے ۔
صدر اور سیکرٹری پریس کلب نے وفاقی وزیر کو پریس کلب کی اعزازی رکنیت دینے کا اعلان

سیکرٹری این پی سی ڈاکٹر فرقان راؤ نے وفاقی وزیر کو ویب سائٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،صحافیوں کی فلاح و بہبود، ڈیجیٹل ٹریننگ، روزگار کے تحفظ، ہاؤسنگ، ہیلتھ کارڈ، خصوصی گرانٹ، میڈیا انڈسٹری کو درپیش مسائل اور نیشنل پریس کلب کی جدید خطوط پر ترقی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام ایک ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان سفارتی سطح پر کامیاب اور امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے: عطا تارڑ
تقریب میںپی آئی او میڈم ریئسہ عادل، نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی، سینئر نائب صدراحتشام الحق، نائب صدر بشیر چوہدری، جوائنٹ سیکرٹری چوہدری جاوید بھاگٹ،سید عون شیرازی شامل تھے ۔
شکیلہ جلیل،ممبر گورننگ باڈی عائشہ ناز،مدثر لانگ،ابرار استوری، فرح ربانی، سینئر صحافیوں حاجی محمدنواز رضا،شکیل قرار، شہریار خان، طارق محمود سمیر،ڈاکٹر سعدیہ کمال سمیت میڈیا ورکرز اور پریس کلب کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑنےاین پی سی میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی نئی ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ کو ویب سائٹ کی کامیاب لانچ پر مبارکباد دی ۔
وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شفافیت، ریکارڈ مینجمنٹ اور انتظامی امور میں نمایاں بہتری آئے گی اور نیشنل پریس کلب کو پاکستان کا مثالی پریس کلب بنانے میں مدد ملے گی۔
موجودہ دور میں اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہو چکی ہے، اس لیے صحافیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل میڈیا اور نئی صحافتی مہارتوں سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
حکومت میڈیا ہاؤسز کے ملازمین کے روزگار کے تحفظ، واجبات کی بروقت ادائیگی، صحافیوں کے ہاؤسنگ مسائل، ہیلتھ کارڈ کی بحالی اور دیگر فلاحی منصوبوں پرسنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کرنے اور کسی جامع تعلیمی ادارے کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی ۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت صحافیوں کو جدید تربیت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی تاکہ وہ عالمی معیار کی صحافت کے تقاضے پورے کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ میڈیا ہاؤسز اپنے ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر کسی میڈیا ادارے میں ملازمین کو فارغ کرنے کی نوبت آئے تو ان صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کیلئے جامع پالیسی مرتب ہونی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ تمام متعلقہ ادارے، تنظیمیں اور میڈیا مالکان مل بیٹھ کر ملازمت کے تحفظ (Job Security) اور روزگار کے استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا کی آزادی اور مضبوط پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کو درپیش مسائل حل کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مضبوطی ہی معاشرے میں متوازن اطلاعات اور ذمہ دار صحافت کو فروغ دیتی ہے۔
انہوں نے نیشنل پریس کلب کی جانب سے صحافیوں کے لیے ہاؤسنگ کوٹہ بحال کرنے کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کی بحالی، پریس کلب کی خصوصی گرانٹ اور دیگر فلاحی منصوبوں پر بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب ملک کا سب سے اہم صحافتی پلیٹ فارم ہے، اس لیے اس کی ترقی، جدید سہولیات کی فراہمی اور مالی استحکام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی خصوصی گرانٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی مثبت پیش رفت کی جائے گی۔
انہوں نے نیشنل پریس کلب کے حالیہ انتخابات کو خوشگوار، شفاف اور جمہوری روایات کا بہترین مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں گروپوں کی جانب سے انتخابی نتائج کو خوش دلی سے قبول کرنا صحافتی برادری کے اتحاد اور بالغ نظری کی علامت ہے، جس پر تمام صحافی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحافی برادری کے مسائل کے حل اور میڈیا کے فروغ کے لیے نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر قابلِ عمل اقدامات جاری رکھے گی۔۔
اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے وفاقی وزیر اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو گزشتہ کئی برسوں سے ہاؤسنگ کوٹہ، ہیلتھ کارڈ، پریس کلب کی گرانٹ، واجبات کی ادائیگی اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے، سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان رؤف نے کہا کہ نئی ویب سائٹ کی تیاری اور ممبران کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ادارے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹ پر ہر ممبر کا مکمل پروفائل، شناختی معلومات اور پیشہ ورانہ تفصیلات محفوظ ہوں گی جبکہ ممبران اپنی پروفائل اور تعارف بھی آن لائن اپ ڈیٹ کر سکیں گے،جس سے انتظامی نظام مزید شفاف اور مؤثر بنے گا۔
فنانس سیکرٹری عابد عباسی نے اپنے خطاب میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے روزگار کا تحفظ، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پریس کلب کی مالی معاونت اور خصوصی گرانٹس وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کو نیشنل پریس کلب کی جانب سے اعزازی رکنیت (Honorary Membership) کا سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام ایک ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔




