علاقائی کشیدگی: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سطح پر امن کے سفیر بن کر سامنے آئے، ایران انٹرنیشنل کی خصوصی رپورٹ

ایران انٹرنیشنل کے ایران امریکہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا ہے اور اس حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔

ایران انٹرنیشنل کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نازک مرحلے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صرف ایک فوجی کمانڈر کے طور پر نہیں بلکہ امن کے لیے سرگرم سفارت کار کے طور پر کردار ادا کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی صدر کی اہم ملاقات،پاکستان کی امن کوششوں کا اعتراف

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علاقائی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کیلئے اپنے ویژن کو اجاگر کیا اور ایسے وقت میں مفاہمت اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا جب خطہ مختلف چیلنجز اور کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

ایران انٹرنیشنل نے اپنی خصوصی رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو ’’امن کا پل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں کشیدگی کے ماحول کے دوران صرف عسکری قیادت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ امن اور علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی اہمیت دی۔

اس جنگ بندی کے بعد 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔

مذاکرات ایران کی طرف سے پیش کردہ ایک 10 نکاتی تجویز پر مبنی تھے، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اس منصوبے میں پابندیوں میں نرمی، علاقائی سلامتی کی یقین دہانیاں، اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مستقبل میں ہونے والے حملوں کے خلاف ضمانتیں شامل تھیں۔

مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بعد، پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری کیلئے اپنی ثالثی کی کوششوں کو تیز کر دیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران امریکامذاکرات، وزیراعظم، فیلڈ مارشل بطور ثالث سوئٹرز لینڈ پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال

اس تناظر میں، پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے بدھ کے روز تہران کا دورہ کیا۔ پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

جمعرات کی رات ہونے والی ایک ملاقات کے دوران، صدر پزشکیان نے جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کی کوششوں کو “موثر اور ذمہ دارانہ” قرار دیا۔

مذاکرات کے دوران پاکستان میں ایرانی سفیررضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کیلئے پاکستان کو بطور مقام ترجیح دے گا۔

ایرانی سفیر، رضا امیری مقدم نے کہا تھا کہ ہم صرف پاکستان میں مذاکرات کریں گے اور کہیں نہیں، کیونکہ ہمیں پاکستان پر بھروسہ ہے۔”