امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے طے پانے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت سوئٹزرلینڈ پہنچ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ٹیکنیکل سطح کے انتہائی اہم مذاکرات میں بطور ثالث شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر بین الاقوامی سفارتی حکام کی جانب سے پاکستانی وفد کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔
عالمی امن کے لیے منعقد ہونے والے ان ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات کا یہ پہلا باقاعدہ دور ہے، جس کی میزبانی سوئٹزرلینڈ کا خوبصورت اور پرامن سیاحتی مقام ‘سٹاک برگن’ کر رہا ہے۔ دونوں حریف ممالک کے اتنے بڑے لیڈرز کا ایک چھت تلے جمع ہونا پاکستانی ثالثی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ حال ہی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ممکن ہوا، جس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے۔
‘سٹاک برگن’ میں ٹیکنیکل مذاکرات کا پہلا دور اور عالمی وفود:
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ اس تاریخی بیٹھک میں ایرانی وفد کی قیادت ان کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں، اس کے علاوہ قطر کا وفد بھی موقع پر پہنچ چکا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کیے تھے، اور اب سوئٹزرلینڈ کے مقام سٹاک برگن میں ہونے والے مذاکرات اس سلسلے کی اگلی کڑی ہیں، جنہیں ‘ٹیکنیکل لیول ٹاکس’ کہا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزر لینڈ میں فیصلہ کن گھڑی: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج شروع ہوگا
پیچیدہ امور اور پاکستانی قیادت کا جج اور ضامن کا کردار:
ان مذاکرات کا مقصد معاہدے کی باریکیوں، پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار، جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ اور خلیج میں بحری راستوں کی سکیورٹی جیسے پیچیدہ امور پر دونوں ممالک کے درمیان حتمی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے، جس میں پاکستان کا کردار جج اور ضامن جیسا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا زیورخ پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف خطے تک محدود کھلاڑی نہیں رہا، بلکہ عالمی بحرانوں کو حل کرنے والی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جیسے ہائی پروفائل رہنماؤں کا پاکستانی قیادت پر اعتماد کرنا ملکی خارجہ پالیسی کا ایک تاریخی عروج ہے۔
ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات کے کٹھن چیلنجز:
سیاسی طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن ‘ٹیکنیکل سطح’ کے مذاکرات سب سے زیادہ کٹھن ہوتے ہیں۔ جے ڈی وینس اور عباس عراقچی کے سامنے اصل چیلنج پابندیوں کی ٹائم لائن اور سکیورٹی ضمانتیں ہوں گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اسٹریٹجک وژن اور وزیرِ اعظم کی سفارت کاری یہاں دونوں وفود کے درمیان ڈیڈ لاک (تعطل) کو ختم کرنے میں پل کا کردار ادا کرے گی، کیونکہ پاکستان دونوں کے تکنیکی تحفظات سے بخوبی واقف ہے۔
عالمی معیشت اور علاقائی منصوبوں پر اثرات:
اگر سٹاک برگن میں ہونے والا یہ پہلا دور کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے، تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں زبردست استحکام آئے گا۔ پاکستان کے لیے اس کا براہِ راست فائدہ یہ ہوگا کہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں نرم ہونے سے سی پیک اور پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے رکے ہوئے معاشی منصوبے تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکیں گے، جس سے خطے کا معاشی مستقبل تبدیل ہو جائے گا۔




