مستونگ میں قومی شاہراہ کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مسلح افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا سیکیورٹی گارڈ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے اس شدید واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو فوراً ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جج صاحبان کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ کی طرف جا رہے تھے۔ سیشن جج مستونگ کی گاڑی پر حملہ ولی خان پاٹک کے قریب قومی شاہراہ پر کیا گیا، جہاں پہلے سے گھات لگائے حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
جج صاحبان کی گاڑی پر ولی خان پھاٹک کے قریب حملہ:
مستونگ میں قومی شاہراہ کے قریب واقع ولی خان پھاٹک پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں موجود دیگر افراد بھی اس ناگہانی فائرنگ کی زد میں آئے جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا، جبکہ جیو فائٹنگ اور حملے کے پس پردہ عوامل کی تحویل میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی:
پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریب ترین ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ شہید ہونے والے سیشن جج اور گن مین کی لاشیں بھی ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔
مجموعی طور پر، قومی شاہراہ پر سیشن جج کی گاڑی پر اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔




