حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل کے حکم پر نہ تو کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی ان کے پاس اس طرح کے دو ٹکے کے غنڈوں سے بات کرنے کے لیے کوئی وقت ہے۔ قمر رضا کے نام کو استعمال کر کے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی دراصل اس سچی حقیقت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے کہ عوام نے ان کو اب مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا دوٹوک موقف اور مسترد شدہ بیانیہ
حکومتی ذرائع نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سے رابطے کے تمام دعوے اور خبریں سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں، اور اب کالعدم ایکشن کمیٹی کو ہر صورت قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، عوامی حمایت مکمل طور پر ختم ہونے اور عوام کی جانب سے بری طرح مسترد کیے جانے کے بعد، کالعدم ایکشن کمیٹی اب فیلڈ مارشل کا نام استعمال کر کے اپنی اس جگ ہنسائی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اوورسیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین قمر رضا کے نام پر جھوٹ پر مبنی نیا بیانیہ گھڑنا دراصل اسی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کا ایک سستا حربہ ہے، لیکن ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایسے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں آنا ہی ہوگا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت پردہ فاش اور قمر رضا کا بیان:
مظفرآباد سے کشمیر ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق، سید قمر رضا نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل نے نہ تو انہیں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے کسی قسم کے رابطے کے لیے کہا ہے اور نہ ہی ریاست کے اعلیٰ ترین عسکری و سول عہدیداروں کا ان عناصر سے کوئی تعلق ہے۔ سید قمر رضا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل کے پاس ان شرپسندوں کے لیے کوئی فالتو وقت نہیں ہے جو کشمیر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قمر رضا کے نام کو استعمال کر کے عوامی ایکشن کمیٹی اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے کہ عوام نے ان کو اب مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ ان عناصر کے ساتھ نہ تو کوئی بات چیت ہوگی اور نہ ہی کوئی مذاکرات کیے جائیں گے، اب انہیں ہر صورت خود کو قانون کے حوالے کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کے حکم پر نہ کوئی رابطہ ہوا نہ ان کے پاس وقت ہے؛سید قمر رضا نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا
حکومت کا موقف اور بیک ڈور مذاکرات کی تردید:
دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت یا اس کے کسی ادارے کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی ہے کہ قمر رضا کے ذریعے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ نہ کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت کرانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم تاحال اس کوشش کے حوالے سے کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔
سیاسی مبصرین کا تجزیہ اور گرتی ہوئی ساکھ:
سیاسی مبصرین کے مطابق، عوامی حمایت میں واضح کمی اور لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت اب خود ساختہ کہانیاں گھڑنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ تنظیم کے ہمدرد سوشل میڈیا پر یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست ان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو کسی طرح سہارا دے سکیں۔
سید قمر رضا کے اس اہم ترین بیان کے بعد، حکومتی ذرائع نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست ان عناصر کو کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے، کیونکہ عوام نے بھی اب ان کی ہڑتالوں کی منفی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سید قمر رضا نے کشمیری عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ جھوٹے پروپیگنڈے اور واٹس ایپ پر پھیلائی جانے والی افواہوں پر بالکل کان نہ دھریں، کیونکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنا اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔




