پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فی لیٹر پٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیویز اور حکومتی چارجز پر مشتمل ہے، جس کے باعث صارفین پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق، اگرچہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات ملکی سطح پر ضرور مرتب ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر حکومتی چارجز بھی ہیں۔ ان چارجز کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں مسلسل عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں اور لیویز کی تفصیلات:
میڈیا رپورٹ کے تفصیلی اعداد و شمار میں واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت تقریباً 315 روپے فی لیٹر قیمت والے پٹرول پر مختلف ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں 95 سے لے کر 100 روپے تک حکومت کو وصول ہوتے ہیں۔ ان محصولات میں سے تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، اور 20 روپے تک کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر چارجز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم سپلائی محدود،ملک بھرمیں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی حکومت کی مجموعی وصولی تقریباً 101 روپے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر وصول کی جانے والی اس بھاری رقم میں پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات شامل ہیں جو براہِ راست حکومت کے خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔
جنرل سیلز ٹیکس اور قیمتوں میں کمی کا امکان:
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات پر مروجہ ٹیکسوں اور لیویز کے بجائے صرف 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مساوی محصولات وصول کیے جائیں تو فی لیٹر وصولی موجودہ سطح سے خاصی کم ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ممکن ہو جائے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 80 روپے سے زائد کی بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی اس وقت وفاق کی آمدن کا اہم ترین ذریعہ بن چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ رقم صوبوں کے ساتھ قابل تقسیم ٹیکسوں میں شامل نہیں ہوتی، جس کے باعث وفاقی حکومت کو اضافی اور براہ راست مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے سوالات اور مجموعی معیشت پر اثرات:
ملک کے معاشی ماہرین نے اس حوالے سے یہ اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا حکومت کو پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافے کا اختیار بغیر کسی مقررہ حد کے حاصل ہونا چاہیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کیا موجودہ محصولات کا یہ بھاری بوجھ عوام پر مزید مہنگائی مسلط کرنے کا بڑا سبب بن رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول ، ڈیزل کی روز نئی قیمتیں؟ بڑی خبر آ گئی
ایندھن اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز میں کسی بھی اضافے کے اثرات صرف ایندھن تک ہی محدود نہیں رہتے، بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے باہم ملنے کی وجہ سے ملک کی مجموعی مہنگائی میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔




