امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کی ہدایت پر آج امریکی وقت کے مطابق شام 4:45 بجے ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی حملوں کا آغاز کر دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور انہیں آبنائے ہرمز میں شہری آبادی اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر حملوں سے روکنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور ان کی عسکری صلاحیت کو مزید محدود کریں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کر دئیے
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان حملوں پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
At 4:45 p.m. ET today, U.S. Central Command began launching the third consecutive night of strikes against Iran, at the Commander in Chief's direction. These strikes will continue imposing a heavy cost on Iranian forces and degrade their ability to attack innocent civilians and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 13, 2026
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کے جنوبی ایران پر فضائی حملے،سینٹ کام کی تصدیق
ماہرین کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے توانائی کی عالمی سپلائی چین مزید متاثر ہو سکتی ہے۔




