آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے آزاد کشمیر حکومت نے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی حکومت کو باقاعدہ طور پر خط لکھ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، خط میں حکومت نے آنے والے عام انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کی استدعا کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے اس مکتوب میں صاف طور پر درخواست کی گئی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ان کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے۔
حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر فورسز کی تعیناتی کا مطالبہ:
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کی سفارشات کی روشنی میں سیکیورٹی فورسز کی یہ خصوصی تعیناتی مانگی گئی ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، پرامن اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے جوانوں کی موجودگی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن مہم: بلاول بھٹو کے آزادکشمیر بھر کے دورے کا شیڈول جاری
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی یہ اہم تعیناتی 24 سے 30 جولائی تک پولنگ اسٹیشنز پر مانگی گئی ہے۔ تمام حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر ان تاریخوں کے دوران فورسز کے دستے تعینات رہیں گے تاکہ ووٹرز کو بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔
سیاسی و عوامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ 24 سے 30 جولائی تک سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے انتخابی عمل پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے گا اور عوام حقِ رائے دہی کا آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔




