ناروے کے مداح اولے فروئسٹاڈ نے ’وائکنگ رو‘ کی شروعات کی دلچسپ کہانی بیان کر دی

سال 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ میں ناروے کے مداحوں کا روایتی نعرہ ’وائکنگ رو‘ کافی مقبول ہو رہا ہے اور اب اس کو مقبول بنانے والے نارویجن شخصیت اولے فروئسٹاڈ نے اس کی شروعات کے حوالے سے اہم ترین حقائق بیان کر دیے ہیں۔ زیادہ تر لوگ انہیں ’مسٹر رو رو‘ کے نام سے جانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس پورے نعرے اور انداز کی کہانی شاید 10 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اولے فروئسٹاڈ نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دن وہ روزن برگ کا ایک میچ دیکھ رہے تھے، جو کہ ناروے کی ایک فٹبال ٹیم ہے۔ اس میچ کے دوران انہوں نے دیکھا کہ روزن برگ کی ٹیم کے مداح اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم کے لیے ایک خاص نعرہ ’روزن برگ‘ لگا رہے تھے اور وہ اس نعرے کو باقاعدہ تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے، یعنی وہ ’رو۔۔ زن۔۔ برگ‘ پکارتے تھے۔

نعرے کا انتخاب اور ’رو‘ کی طاقتور گونج:

اولے فروئسٹاڈ کے مطابق، جب انہوں نے روزن برگ کی ٹیم کے مداحوں کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنا تو انہیں اس نعرے کا پہلا حصہ یعنی ’رو‘ بہت زیادہ اچھا لگا۔ انہوں نے اس پر مزید غور کیا اور سوچا کہ اس پورے نعرے کے بجائے کیوں نہ صرف ’رو‘ کا ہی استعمال کیا جائے، کیونکہ انہیں اس ’رو‘ کی گونج اپنے اندر بہت زیادہ طاقتور محسوس ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: لیونل میسی نے نئی تاریخ رقم کر دی

اس منفرد خیال کے بعد انہوں نے اس پر مزید کام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی یادگار اور جوش سے بھرپور انداز اپنا سکیں جو فٹبال کے میدانوں میں ناروے کی ایک منفرد پہچان بن کر سامنے آئے۔

وائکنگز کی تاریخ اور میدانِ جنگ کا موازنہ:

انہوں نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال وہ وائکنگ (Viking) کی تاریخ اور ثقافت سے متعلق کچھ بنانا چاہتے تھے اور اسی دوران اچانک ان کے ذہن میں ایک شاندار خیال آیا۔ انہوں نے سوچا کہ یہ ’رو‘ ہی تو وہ لفظ اور کام ہے جو قدیم وائکنگز جنگ پر جانے سے بالکل پہلے کیا کرتے تھے، جب وہ اپنے جنگی مہمات پر روانہ ہوتے تھے۔

اولے فروئسٹاڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قدیم دور میں وائکنگز جنگ پر جانے سے پہلے اپنے جہازوں اور کشتیوں کے بادبان لپیٹتے تھے، اپنے چپو سنبھالتے تھے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے پوری قوت کے ساتھ کشتی چلاتے (Row) تھے۔ ان کے مطابق، بالکل یہی کام فٹبال کے کھلاڑی بھی میدان میں کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک طرح سے میدانِ کھیل میں جنگ لڑنے جا رہے ہوتے ہیں، اس لیے یہ نعرہ ان کے جوش کو بڑھانے کے لیے بہترین ہے۔

مزید پڑھیں: فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا مستقبل میں 64 ٹیموں کا ورلڈکپ کروانے کا عندیہ