سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھارت میں مذہبی و نسلی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو بھارت اندرونی طور پر بکھر سکتا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں، جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے تناظر میں سامنے آیا۔
براک اوباما کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس وقت صدر ہوتے اور ان کی ملاقات بھارتی وزیراعظم مودی سے ہوتی، تو وہ ان کے سامنے ہندو اکثریتی بھارت میں مسلم اقلیت کے حقوق کا معاملہ ضرور اُٹھاتے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا، انتباہ بھی جاری کردیا
سابق امریکی صدر نے واشنگٹن انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ بھارت کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھاتے وقت انسانی حقوق کے تحفظ کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
اگر آپ بھارت میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت کسی موڑ پر اندرونی طور پر ٹوٹنا شروع ہو جائے۔
انہوں نے ماضی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ دنیا دیکھ چکی ہے کہ جب کسی ملک میں بڑے پیمانے پر داخلی تنازعات جنم لیتے ہیں تو اس کے نتائج کتنے بھیانک ہوتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان اب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا، اُڑان پاکستان قومی تعمیرِ نو کا جامع مشن ہے، احسن اقبال
براک اوباما کے اس بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سابق امریکی صدر کے اس موقف کی بھرپور تائید کی ہے۔




