امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنے حملے نہ روکے تو امریکا کی بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ تازہ امریکی حملے ایران کی جانب سے ایک روز قبل جہازوں پر کیے گئے مبینہ حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ایران پر پھر حملے، چاہ بہار، بندرعباس، سیریک سمیت ساحلی علاقوں میں دھماکے
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز جہازوں پر بمباری کے جواب میں کی گئی ہے۔ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران میں امریکی حملوں کے بعد کی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ ایران کی نے بھی خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز جلد خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑےحملے شروع کریں گی۔
واضح رہے کہ امریکا نے آج ایران کے ساحلی علاقوں میں حملے کیے ہیں ایرانی میڈیا نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بندر عباس، سرک، چابہار اور کونارک میں کئی دھماکے سنے گئے۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران پراضافی حملے شروع کردیےہیں۔ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور عملے پر ایران کے حالیہ بلا جواز حملوں کے ردعمل میں کیے جا ر ہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت وعدوں کی پاسداری کریں، پاکستان
بمباری ایران کی ہرمزمیں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کےلیےخطرہ بننےکی صلاحیت کومحدود کرنےکےلیےکی جارہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چا بہار پرامریکی حملے میں پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی اسپتال پر گرا ہے۔ میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز جلد خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑےحملے شروع کریں گی۔




