فرانس نے آبنائے ہرمز میں مائن ہنٹرز جہاز تعینات کردیے، تجارتی گزرگاہ میں ایک اورتنازع

علاقائی امن اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فرانس نے گزشتہ روز عمانی حکام سے مشاورت کے بعد آبنائے ہرمز میں اپنے جدید ترین مائن ہنٹرز اور حفاظتی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ اس اہم ترین فوجی اقدام کا بنیادی مقصد جدید تکنیکی اثاثوں کے ذریعے سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کا خاتمہ کرنا اور بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کرنا ہے۔

فرانس نے مشرق وسطیٰ کی اس اہم ترین اور حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے اپنے خصوصی مائن ہنٹرز (جنگی جہاز) تعینات کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک اہم ترین بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس اقدام کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ صدر میکرون کا کہنا تھا کہ فرانسیسی مائن ہنٹرز اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ان کا بنیادی ہدف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو ہر ممکن حد تک یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ایران کی محبت باہمی،پیار نہ ہوتا تو پاکستان کی ثالثی قبول نہ کرتے،اسماعیل بقائی

طیارہ بردار جہاز کی واپسی اور مائن ہنٹرز کی مستقل تعیناتی:

فرانسیسی صدر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عمانی حکام کے ساتھ تفصیلی مشاورت اور سفارتی رابطوں کے بعد فرانس کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز ’چارلس ڈیگال‘ کو بندرگاہ پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ طیارہ بردار جہاز کی واپسی کے باوجود بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے فرانسیسی اثاثے، مائن ہنٹرز اور ان کا معاون حفاظتی دستہ اسی علاقے میں مستقل تعینات رہے گا اور کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے 24 گھنٹے تیار رہے گا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی وہ حساس ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس علاقے میں تجارتی جہازوں پر مشکوک حملوں اور بارودی سرنگوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں، جس کے بعد فرانس نے اس خطے میں اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

ایران کا شدید احتجاج اور بیرونی مداخلت کا ردِعمل:

واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ کے آخر میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فرانسیسی یا مغربی شمولیت کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ جب فرانسیسی صدر نے پہلی بار اس فوجی منصوبے کا اعلان کیا تھا، تو ایرانی حکام نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ خلیج کی سیکیورٹی صرف خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ ایران کے شدید احتجاج کے باوجود فرانس نے اپنے مائن ہنٹرز کو ہرمز کے پانیوں میں اتار دیا ہے۔

فرانس کا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی بحری سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف طیارہ بردار جہاز ’چارلس ڈیگال‘ کو واپس بلا کر فرانس نے عمان کے تعاون سے ایران کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جنگی جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن دوسری طرف مائن ہنٹرز کی تعیناتی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت کے بعد تیل قیمتوں میں مزید کمی

خلیج میں نئی سرد جنگ اور عمان کا ثالثی کردار:

واضح رہے کہ یہ صورتحال خلیج میں ایک نئی سرد جنگ کو جنم دے سکتی ہے کیونکہ ایران اس تعیناتی کو اپنی خودمختاری اور علاقائی بالادستی پر ضرب سمجھتا ہے۔ اگر فرانسیسی مائن ہنٹرز اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان سمندر میں کوئی براہ راست سامنا ہوتا ہے، تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے بلکہ ایک بڑے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ اس تمام تر نازک صورتحال میں عمان کا اس پورے معاملے میں ثالثی کا کردار انتہائی اہم ہے، جو خلیج کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔