بھارت جنوبی ایشیاء کے امن ،معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ،سکیورٹی ذرائع

راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)اعلیٰ سطحی سکیورٹی حکام نے تفصیلی بریفنگ میں بھارت کے نام نہاد جمہوری دعوے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ہے اندرونی تضادات کے بوجھ تلے بتدریج زوال اور عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔

سکیورٹی حکام کی تفصیلی بریفنگ جس کا مکمل مرکزِ نگاہ بھارت تھا۔ معمول کے برعکس، اس بار توجہ ہندوستان کے دہشت گردی کی سرپرستی یا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے کردار پر نہیں بلکہ بریفنگ کا محور بھارت کو ایک ناکام اور ناموافق ریاست بتانا تھا۔

سکیورٹی حکام نے تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ بھارت اپنی ہی اندرونی تضادات کے بوجھ تلے بتدریج زوال اور عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ بھارت کی اسٹریٹیجک سوچ جبر اور دباؤ پر قائم ہے، عوامی رضامندی پر نہیں۔

مذہب، ذات پات، نسل، زبان اور علاقائی تقسیم پر مبنی اندرونی خلیجیں کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو رہی ہیں۔ذات پات کا نظام آج بھی پیدائش، سماجی حیثیت، حقوق اور مواقع کا تعین کرتا ہے، جس کے باعث کروڑوں افراد سماجی محرومی کا شکار ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:

ہندوتواء اور ہر شعبے کو بھگوا رنگ میں رنگنے (Saffronizationنے کثرتِ رائے اور تنوع کی جگہ اکثریتی بالادستی کو فروغ دیا ہے۔ آج ہندوستان میں مذہب، اور اس سے بھی بڑھ کر ذات، انسان کی سماجی حیثیت کا تعین کرتی ہے۔

اسلام کے برعکس، جہاں ہر انسان برابر پیدا ہوتا ہے، بھارت میں ہر بچہ غیر مساوی معاشرتی ڈھانچے میں جنم لیتا ہے۔بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر، منی پور، خالصتان، سیون سسٹرز، شمال و جنوب کی تقسیم اور ناگالینڈ آج بھی حل طلب سیاسی تنازعات اور آزادی کی تحریکوں کی یاد دلاتے ہیں۔

نئی دہلی اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے مسلسل پاکستان کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹائی جا سکے۔قائداعظم محمد علی جناح درست ثابت ہوئے، اور آج کے حالات دو قومی نظریئے کی صداقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، شناخت کی سیاست، مذہبی تقسیم اور ذات پات کا نظام بھارت کے قومی اتحاد کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔ہندوستان اپنے سماجی، مذہبی، سیاسی اور ساختی تضادات کے بوجھ تلے مسلسل زوال کا شکار ہے۔

فوج کو بھگوا رنگ میں رنگنے (Saffronization of Military) اور سیاست کی عسکریت پسندی نے پہلے سے تقسیم شدہ معاشرے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ صرف فوج ہی نہیں بلکہ ریاستی ادارے بھی بتدریج اسی نظریاتی رنگ میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

اسٹریٹیجک ابہام کواسٹریٹیجک خودمختاری کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سفارتی تنہائی اور غیر واضح حکمتِ عملی کا اظہار بنتا جا رہا ہے۔

بھارت کے تقریباً تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سنگین تنازعات یا کشیدہ تعلقات ہیں، جس سے اسکا جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے والی ریاست کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔

جیسے جیسے پاکستان کا بین الاقوامی مقام مستحکم ہو رہا ویسے ویسے بھارت کو اندرونی تضادات کو چھپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس کی اپنی پالیسیاں ہی اس کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں، جو ریاست کو اندر سے کمزور کر رہی ہیں۔

بھارت جنوبی ایشیا کو ترقی کی طرف لے جانے کے بجائے خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔

جہاں پاکستان ایک پراعتماد اور ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے، وہیں بھارت بتدریج زوال اور انتشار کے راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔

کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟ کیا تحریکِ پاکستان 2.0″ کے لیے وقت سازگار ہو چکا ہے؟ اس بریفنگ کے مطابق، اس سوال کا جواب ایک واضح ہاں ہے۔

پاکستان ایک پراعتماد اور ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے ،بھارت بتدریج زوال اور انتشار کے راستے پر گامزن ہے۔