طارق فضل

کسی بھی کالعدم تنظیم کیساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے، طارق فضل کا دوٹوک اعلان

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ ایکشن کمیٹی کالعدم ہونےکے بعد ہمارے پاس براہ راست مذاکرات کا راستہ نہیں، ہم کسی بھی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتے، مولانا فضل الرحمان کو ثالثی کےلیے ایکشن کمیٹی نے اپروچ کیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں فی الفور ختم نہیں ہوسکتیں، نشستوں کے خاتمے کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے ہینڈلر کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی پرانی ویڈیو شیئر کر کے انتشار پھیلانے لگے

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ بات چیت سے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی، ہم مذاکرات کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے کہا 12 نشستوں کے حوالے سے 4 آپشنز دیئے جو وہ نہیں مانے، الیکشن کے بعد نئی اسمبلی کوئی فیصلہ کرے تو وہ ترمیم کر سکتی ہے، 12 نشستیں ابھی بحال ہیں اور بحال رہیں گی۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر نے فیصلہ کیا کہ پر تشدد ہجوم کو سڑکوں پر نہیں نکلنے دینا، وزیراعظم آزاد کشمیر مسلم لیگ ن سے کوئی بات کریں گے تو اپنا رد عمل دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ 2024 میں چند تاجر تنظیموں نے مل کر آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی قائم کی تھی، جس نے عوامی فلاح کے لیے بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ اٹھایا۔

حکومت نے کمیٹی کے دونوں بنیادی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بجلی کا نرخ 3 روپے فی یونٹ اور آٹے کی قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر کی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ تاجر رہنماؤں کے دوسرے مارچ کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان 38 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے 35 نکات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 20 نکات پر ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر میگا منصوبوں کے لیے پی سی ون اور فنڈز کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، میگا پروجیکٹس کی تکمیل میں 2 سے 3 سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ 30 جون کو ہم ایک اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ مظفرآباد گئے اور مظفرآباد میں تاجر رہنماؤں سے 2 گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کو بڑا جھٹکا، مرکزی رہنما وجاہت حنیف کا لاتعلقی کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ اگر چند ہزار افراد سڑکوں پر آ کر ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور اگلے ہی روز دوسرے لوگ ان کی بحالی کا مطالبہ کریں تو ایسے فیصلے سڑکوں پر نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہاکہ اگر ضد کے بجائے سنجیدگی سے بات چیت کی جاتی تو ممکن ہے ان 12 نشستوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نکل آتا۔