الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے مظفرآباد میں دائر اپیل پر ایک بڑا اور اہم ترین فیصلہ سناتے ہوئے قائمقام صدر و اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کے حق میں فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد اب چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی باقاعدہ طور پر منظور کر لیے گئے ہیں۔
اس سے قبل مظفرآباد میں ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے، جس کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپیل دائر کی گئی تھی۔
اعتراضات کی تفصیلات اور ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ:
مظفرآباد سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی پر یہ قانونی اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ وہ صدر آزاد کشمیر کے اعلیٰ عہدے پر برقرار رہتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اسی اعتراض کو بنیاد بنا کر ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذاتِ نامزدگی کو مسترد کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل: چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
کاغذات مسترد ہونے کے بعد چوہدری لطیف اکبر اور ان کی قانونی ٹیم نے ریٹرننگ آفیسر کے اس فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر میں باقاعدہ اپیل دائر کی تھی، جس پر تفصیلی سماعت کی گئی۔
الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ اور ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ معطل:
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے کیس کے تمام قانونی پہلوؤں اور دائر کردہ اپیل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا پرانا فیصلہ معطل کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے چوہدری لطیف اکبر کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق میں باقاعدہ فیصلہ سنایا اور ان کے کاغذاتِ نامزدگی کو منظور کرنے کا حکم دیا۔
الیکشن کمیشن کے اس بڑے فیصلے کے بعد چوہدری لطیف اکبر پر الیکشن لڑنے کے حوالے سے عائد ہونے والی تمام قانونی رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں اور وہ اب انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر اہل قرار پا چکے ہیں۔




