تھور میں کلاؤڈ برسٹ سے قیامت خیز سیلاب، مکانات، زرعی زمینیں اور سونا بہہ گیا، رابطہ سڑکیں منقطع

تھور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں اچانک ہونے والے شدید کلاؤڈ برسٹ (ابرِ مبرم) کے باعث آنے والے ہولناک سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اس قیامت خیز سیلاب کے نتیجے میں رہائشی مکانات، مساجد، کھڑی فصلوں اور مال مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ رابطہ سڑکیں بند ہونے سے علاقہ دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھور میک کے مقام پر مقامی مسجد سیلابی ریلے کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ تھور اینگر میں ایک خشک پہاڑی سے اچانک نمودار ہونے والے خوفناک سیلابی ریلے نے بستی کا رخ کر لیا۔ اس ریلے میں ایک رہائشی مکان، قیمتی گھریلو سامان، مال مویشی اور ایک گاڑی بہہ گئی ہے۔

لاکھوں کی نقدی اور ۲۰۰ گرام سونا بہہ گیا:

متاثرہ خاندان کے مطابق گولڈ پلیسر (مقامی طریقے) کے ذریعے نکالا گیا تقریباً 200 گرام سونا اور لاکھوں روپے کی نقد رقم بھی سیلابی پانی اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ سیلابی ملبہ اور مٹی گھروں میں داخل ہونے کے باعث تھور کو دیگر علاقوں سے ملانے والی اہم رابطہ سڑک مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے جس سے مقامی افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ملک کے کن کن علاقوں میں آندھی اور بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

کھڑی فصلوں اور کھیتوں کو کروڑوں کا نقصان:

دوسری جانب تھور شیتن اور تھور میک سمیت متعدد قریبی مقامات پر سیلابی ریلے وسیع زرعی رقبے پر کھڑی فصلوں اور کھیتوں میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے زمینداروں اور ہاریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ زرعی زمینوں پر سیلابی پانی اور مٹی آنے سے تیار فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

انتظامیہ غائب، فضائی امداد کا مطالبہ:

ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کی عدم موجودگی کے باعث مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم سڑکوں کی بندش اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے مقامی آبادی اور رضاکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شدید متاثرہ خاندانوں اور دیگر مقامی متاثرین نے حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے فوری فضائی امداد اور سڑکوں کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:کشمیرسمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی