اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی قیادت کا احترام کرتے ہیں تاہم آزاد کشمیر میں حکومت پیپلزپارٹی کی ہے اور موجودہ صورتحال پر سب سے زیادہ ذمہ داری بھی اسی جماعت پر عائد ہوتی ہے۔
ایک انٹرویومیں خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، اس لئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہاں ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر کی پارلیمنٹ میں نمائندگی،خواجہ آصف نے بلاول بھٹو کی تجویز کی حمایت کردی
انہوں نے کہا کہ صرف حکومت کرنا کافی نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل اور حالات کو بہتر بنانا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آزاد کشمیر بلانا دراصل پیپلزپارٹی کی جانب سے اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی خود آزاد کشمیر کے انتخابات ملتوی کرانا چاہتی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور اگرچہ لاکھ مرتبہ معذرت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی ذات نہیں بلکہ ریاست اور اس کی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والوں کی اہمیت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار، لاشوں کیے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،ابصار عالم
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم سے تنگ آ کر مہاجرین نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی سخت حالات کے باوجود پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے جو بات کی، وہ درست تھی اور وہ آج بھی اپنے بیان پر قائم ہیں، ان کے بقول معذرت کا مطالبہ بے جا ہے کیونکہ ان کا موقف حقائق پر مبنی ہے۔




