آزادکشمیر پولیس نے برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی ) کو انٹرویو میں پولیس کی جانب سے کھانے پینے کا سامان روکے جانے کا دعویٰ کرنیوالے ٹوئٹر صارف سے واقعہ سے متعلق تفصیلات مانگ لی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ الزامات درست ثابت ہونے پر متعلقہ پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔
انسپکٹر جنرل آزادکشمیرپولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محمد عمیر نامی ایک شخص نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (X)پر ایک ٹویٹ شیئر کی، جس میں اس نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیاکہ میں نے پولیس والوں سے بہت منت سماجت کی، خدا کا واسطہ دیا کہ مجھے کھانے پینے کا سامان گھر لے جانے دیںکیونکہ میرے گھر میں اب فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور میری بیوی بھی حاملہ ہےلیکن وہ ذرا بھی نہ مانے اور کہا کہ اگر میں اپنے ہاتھوں سے کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیں تباہ کر دوں تو مجھے جانے دیا جائے گا ورنہ واپس چلا جاؤں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی مشترکہ پریس کانفرنس، اہم ترین حقائق سامنے رکھ دیے
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ پوسٹ جھوٹی، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح شرپسند اور رکاوٹیں کھڑی کرنے والے عناصر نے راولاکوٹ اور اس کے گردونواح میں سڑکیں بند کر رکھی ہیں۔
یہ عناصر نہ صرف لوٹ مار اور بدامنی میں ملوث ہیں بلکہ خوراک اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور آمدورفت میں بھی رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے وہ غلط معلومات، پروپیگنڈا اور جھوٹے بیانیے پھیلا رہے ہیں۔
آئی جی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بی بی سی سے منسوب یہ مبینہ انٹرویو بھی اسی گمراہ کن مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور متعلقہ شخص کا تعلق بھی کالعدم ایکشن کمیٹی سے معلوم ہوتا ہے۔
اس نوعیت کے کسی واقعے کی پولیس کو کوئی اطلاع نہیں ملی، اور نہ ہی پولیس ایسے کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل کا تصور کر سکتی ہے۔ اگر واقعی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو محمد عمیر سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ 05822-930836 پر پولیس سے رابطہ کریں اور معاملے کی مکمل تفصیلات فراہم کریں اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار، لاشوں کیے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،ابصار عالم
ترجمان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر پولیس یہ بھی توقع کرتی ہے کہ بی بی سی کی انتظامیہ، جس کے نام کو اس مبینہ انٹرویو کے حوالے سے استعمال کیا گیا ہے، اس معاملے کا نوٹس لے گی اور ادارے کا نام غلط استعمال کرنے والے فرد کے خلاف مناسب کارروائی کرے گی۔
آئی جی کے ترجمان نے خبر دار کیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی، گمراہ کن اور حقائق کے خلاف معلومات یا افواہیں پھیلانے یا شیئر کرنے والے افراد کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہیںبصورت دیگر ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائیگی۔




