میرپور سے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اور خواجہ مہران کے قریبی ساتھی عثمان مشتاق نے تنظیم سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے راولاکوٹ دھرنے سے واپسی پر خود کو تنظیم کی تمام تر سرگرمیوں، طرزِ عمل اور نظریات سے مکمل طور پر الگ کر لیا ہے۔
عثمان مشتاق نے اپنے جاری کردہ ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ خواجہ مہران کے ہمراہ راولاکوٹ دھرنے میں باقاعدہ شریک ہوئے تھے۔ تاہم، وہاں کے حالات کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد انہیں اس بات کا گہرا احساس ہوا کہ یہ تنظیم اپنے ابتدائی دعووں اور عوامی حقوق کے اصل ایجنڈے سے مکمل طور پر ہٹ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں موجود کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنما راشو جٹ کا تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان
عوامی مسائل کے نام پر الگ ایجنڈے کا انکشاف ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں عوامی ایکشن کمیٹی آٹا، بجلی اور ہیلتھ کارڈ جیسے خالص عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی تھی، جس کی بنیاد پر انہوں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن بعد ازاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ تنظیم کا موجودہ طرزِ عمل اور تمام سرگرمیاں عوامی حقوق کے بجائے کسی اور ہی ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔
عثمان مشتاق نے دھرنے کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے بعد اس بات کا ادراک کیا کہ اب اس تنظیم کے ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا۔ اسی بنا پر انہوں نے کالعدم تنظیم کے موجودہ نظریات سے شدید اختلاف کرتے ہوئے فوری اور حتمی طور پر اپنی راہیں جدا کرنے کا بڑا فیصلہ کیا اور اپنی علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔
نوجوانوں سے حقائق سمجھنے کی خصوصی اپیل انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں بالخصوص نوجوانوں سے ایک اہم اور پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے یا اشتعال انگیزی کا حصہ ہرگز نہ بنیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات کے اصل حقائق کا ادراک کریں اور اپنے مستقبل کا تحفظ یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: صدر انجمن تاجران شوکت کھوکھر کا کالعدم ایکشن کمیٹی لاتعلقی کا اعلان
عثمان مشتاق نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو ایسے تمام عناصر سے مکمل طور پر دور رہنا چاہیے جو انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی اس علیحدگی اور واضح بیان کو راولاکوٹ دھرنے کے تناظر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے ایک بڑا تنظیمی دھچکا تصور کیا جا رہی ہے۔




