کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شرکت و معاونت پر کریک ڈاؤن ، درجنوں سرکاری ملازمین معطل

 آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے ملک دشمن اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔

کمشنر پونچھ ڈویژن، محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ برقیات کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ احکامات کے مطابق کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ دھرنے اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں میں مالی و نظریاتی معاونت فراہم کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی گئی ہے جس کے نوٹیفکیشنز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا سرکاری معاون کی گرفتاری کا پروپیگنڈا بے نقاب، ویڈیو پرانی نکلی

نوٹیفکیشنز کے مطابق نظامت اعلیٰ تعلیم (کالجز) مظفرآباد کے حکم نامہ کے تحت گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ملوٹ (ضلع باغ) کے نائب قاصد مسٹر وقاص گلزار کو ملازمت سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ناظم تعلیم کالجز مظفرآباد ڈویژن، راجہ محمد فیاض خان کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 15 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیںدفتر چیف انجینئر برقیات پونچھ (راولاکوٹ) نے ہجیرہ آپریشن ڈویژن میں تعینات میٹر ریڈر خواجہ ارشد کو فوری طور پر نوکری سے معطل کر دیا ہے۔

مذکورہ ملازم کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور دھرنے میں براہِ راست ملوث پائے گئے، جس کے بعد آزاد جموں و کشمیر سول ملازمین رولز 1977 کے تحت ان کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بھی درجنوں ملازمین جن میں ٹیچرز، محکمہ صحت ، محکمہ برقیات کےملازم شامل ہیں ان کو ملازمت سے معطل کرکے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے تمام اضلاع میں فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں اور مزید ملازمین کی معطل ہونے کا بھی امکان ہے جبکہ پنشنرز کی پنشن بھی بند کی جائیگی۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے زیروٹالرنس اپنائی گئی ہےاور دھرنےمیں معاونت پر سابق فوجی اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائیگی اور ان کی پنشن بھی بند ہوگی۔

آزاد کشمیر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کر کے ریاست کے خلاف کام کرنے والے ملازمین کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ تما

یہ بھی پڑھیں:بھارتی مذموم مقاصد بے نقاب، ایکشن کمیٹی انتشار پھیلا رہی ہے، سردارعتیق خان

م اضلاع میں ملوث دیگر سرکاری ملازمین کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جا رہا ہے جن کے خلاف جلد سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاست کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔