اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) نے امن دستوں کے خلاف جرائم پر احتساب سے متعلق قرارداد نمبر 2823 متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
یہ اہم ترین سفارتی قرارداد پاکستان اور ڈنمارک نے سلامتی کونسل کے ‘پیس کیپنگ ڈو’ کے طور پر مشترکہ طور پر پیش کر رکھی تھی۔
اس تاریخی قرارداد کی عالمی برادری کے 153 رکن ممالک نے مشترکہ طور پر تائید کی جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور عالمی پرچم تلے خدمات انجام دینے والے مرد و خواتین اہلکاروں کے تحفظ کیلئے دنیا کے بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکہ معاہدہ: پاکستان کی شاندار سفارتکاری،نئی عالمی تاریخ رقم کردی
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اس تاریخی قرارداد کو پیش کرتے ہوئے اپنے پُرعزم خطاب میں کہا کہ یہ قرارداد دنیا کو ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو سلامتی کونسل کی مکمل تائید حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن دستوں پر ہونے والے حملوں کو اب کسی صورت خاموشی یا استثنیٰ کے ساتھ نہیں دیکھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن دستوں پر حملے سراسر ناقابلِ قبول ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں لہٰذا ایسے تمام واقعات کی مؤثر تحقیقات، قانونی کارروائی اور ذمہ داران کا سخت احتساب ناگزیر ہے۔
منظور کی جانے والی قرارداد میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ عالمی امن کے علمبرداروں پر حملے کرنے والے عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس مقصد کیلئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ میں ایک سینئر فوکل پوائنٹ مقرر کرنے سمیت مختلف اسٹرٹیجک اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے ذریعے موجودہ احتسابی نظام کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
بین الاقوامی امور سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری دنیا بھر کے خطرناک خطوں میں تعینات اہلکاروں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کے سدباب کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔
پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنے فوجی و پولیس دستے فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے اور طویل ترین شراکت دار ممالک میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی،پاکستان نے سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا
سلامتی کونسل سے اس قرارداد کا متفقہ طور پر پاس ہونا عالمی امن کے حوالے سے پاکستان کی دیرینہ قیادت، فعال سفارت کاری اور بین الاقوامی استحکام کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان نے نہ صرف بے شمار امن مشنز میں اپنے جانثار اہلکار بھیجے ہیں بلکہ ان مشنز کی مجموعی سلامتی، موثریت اور عالمی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ پالیسی سازی اور سفارتی محاذ پر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔




