ٹرمپ

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کے دعوے مسترد کردیئے

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود مسلح گروہوں، حزب اللہ اور حماس کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ان دعوؤں سے دھوکا نہیں کھائے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی عسکری مداخلت اور خطے میں اس کی پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ، ایران تکنیکی مذاکرات کا دوسرامرحلہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہوگا،مارکو روبیو

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت کے ساتھ خطے میں مسلسل جنگیں مسلط کر رہا ہے اور اسے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ اسرائیل جنگ، تشدد اور دیگر سنگین کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ امریکا کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔

یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس موقف کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایران سے منسلک مسلح گروہوں کو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایک اور سفارتی ذریعے کے مطابق خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب میں بھی الگ مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ان کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی بھی امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیٹو نے مایوس کیا، ایران سے ہم جیت رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی اور اس حوالے سے امریکا کی جانب سے بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ادھر لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملے میں کفر رمان کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا جو اس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔