معروف سیاسی رہنما راجہ شجاعت نے ’کشمیر ڈیجیٹل‘ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور قومی سلامتی کے اہم امور پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اپنے دوٹوک مؤقف میں واضح کیا ہے کہ کشمیر کی بقا اور آزادی کی تحریک کا اصل محور کیا ہے۔
راجہ شجاعت نے کہا کہ کشمیر کی بقا افواجِ پاکستان ہے، اور سرینگر کے کشمیریوں کی امید افواجِ پاکستان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام اپنی آزادی اور سلامتی کے لیے پاک فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کے حلقہ کھاوڑہ سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد
آئین و قانون کی بالادستی اور جتھہ بازی کی مخالفت:
آزاد کشمیر کے داخلی و سیاسی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے راجہ شجاعت نے ’کشمیر ڈیجیٹل‘ کو بتایا کہ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل سیاست میں ہے، اور آزاد کشمیر کے مسائل آئین و قانون میں رہ کر ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دباؤ اور دھونس کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے جتھہ بازی سے قانون ساز اسمبلی سے فیصلے کروانے کی کوشش کسی صورت قابلِ عمل نہیں ہے اور نہ کرنے دینا چاہیے، ورنہ کل یہ معاہدہ کراچی ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی کوششوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
مہاجرین کی نشستیں اور ایکشن کمیٹی کا منصوبہ:
راجہ شجاعت نے تحریکِ آزادی میں مہاجرین کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مہاجرین کے خون کی وجہ سے زندہ ہے۔ انہوں نے مہاجرین کی قربانیوں کو مسئلہ کشمیر کی اصل روح قرار دیا۔
مزید پڑھیں: عدالت عالیہ نے پی ٹی آئی امیدواروں کو ’بلے کے نشان‘ پر الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے انٹرویو میں ایکشن کمیٹی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایکشن کمیٹی والے مہاجرین نشستوں کو ختم کر کے اوورسیز کو نمائندگی دے کر اپنی من مانی حکومت بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔




