آزادکشمیر

عدالت عالیہ نے پی ٹی آئی امیدواروں کو ’بلے کے نشان‘ پر الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر کے حق میں ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح عبوری طور پر فوری رجسٹر کیا جائے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ آنے والے انتخابی عمل کے تناظر میں ایک بہت بڑی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے آڈٹ اعتراض کا بہانہ بنا کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو رجسٹرڈ نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے خلاف معروف قانون دان خواجہ انصر ایڈوکیٹ، یاسر سفیر مغل ایڈوکیٹ اور سپریم کورٹ کے وکیل میر ساجد اشرف ایڈووکیٹ نے ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر رکھی تھی۔ اس اہم نوعیت کے کیس کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ کا ایک لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس نے دائر کردہ رٹ پٹیشن پر تفصیلی سماعت مکمل کرنے کے بعد اب یہ باقاعدہ فیصلہ جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن آزادکشمیر:امیدواروں،ایجنٹوں کیلئےضابطہ اخلاق جاری

لارجر بینچ کی تشکیل اور عدالتی فیصلے کے اہم نکات:

پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے والا یہ ہائی کورٹ کا لارجر بینچ سینیئر جج ہائی کورٹ جسٹس سید شاہد بہار، جسٹس چوہدری خالد رشید اور جسٹس سردار محمد اعجاز خان پر مشتمل تھا۔ معزز ججز نے کیس کے تمام قانونی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔

عدالت عالیہ نے اپنے جاری کردہ فیصلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر رٹ کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ لارجر بینچ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کو بھی خطے کی دیگر تمام سیاسی جماعتوں کی طرح عبوری رجسٹریشن فراہم کی جائے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا جواز ختم ہو گیا ہے اور پارٹی کے لیے دیگر جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔