عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست کمی ریکارڈ

عالمی منڈی میں منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں 1.1 فیصد سے زائد کی نمایاں اور زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے سونا 4,142 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں منگل کے دن سونے کی قیمتوں میں 1.1 فیصد سے زیادہ کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جسے مارکیٹ کے ماہرین ایک غیر متوقع اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس بڑی کمی کی وجوہات میں امریکی ڈالر کا مضبوط ہونا اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات شامل ہیں۔ انھی وجوہات کے باعث اسپاٹ گولڈ کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہو کر 4,142.61 ڈالر فی اونس کی سطح تک نیچے گر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں کی پھر اونچی اڑان: فی تولہ سونا 4 ہزار 643 روپے تک پہنچ گیا

امریکی سونے کے فیوچرز اور ڈالر کی صورتحال:

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگست کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے فیوچرز بھی 1 فیصد کی کمی کے بعد 4,160.20 ڈالر پر آ گئے ہیں۔ ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ امریکی ڈالر اس وقت گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح کے بالکل قریب برقرار ہے۔ ڈالر کی اس مضبوطی کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا خریدنا مزید مہنگا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر سونے کی طلب میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سونا اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے جزوی طور پر سہارا حاصل کر رہا تھا، تاہم اب ڈالر کی مضبوطی اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات اس پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے اب تمام سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی آئندہ آنے والی مالیاتی پالیسی اور مہنگائی کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی سیاسی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات:

عالمی سیاسی صورتحال میں بھی جزوی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں جہاں امریکا نے ایران پر عائد بعض پابندیاں 60 دن کے لیے نرم کر دی ہیں اور اس کا اعلان حالیہ ایران امریکا ابتدائی مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ اس کے علاوہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد رکھی ہے، تاہم ایران نے اس مؤقف کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کوئی باضابطہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

دوسری جانب شکاگو فیڈ کے صدر آسٹن گولزبی نے کہا ہے کہ لیبر مارکیٹ مستحکم ہے اور فیڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہے گی یا وقت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اب 88 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو گزشتہ ہفتے 61 فیصد تھا، جبکہ سرمایہ کار اس وقت امریکی افراطِ زر کے اہم اشاریے “پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE)” کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالی پالیسی کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیں: ’خود مختار خاتون‘ : خواتین کے لیے فنانسنگ پروگرام متعارف، گھر بیٹھے مالی سہولت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟

چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں:

سونے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چاندی کی قیمت میں 3.3 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ پلاٹینم کی قیمت 1.9 فیصد تک نیچے آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی 1.8 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور مالی پالیسیوں کے اثرات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔