شوکت نواز میر، عمر نذیر اور امان ادریس کی بھارتی سہولت کار سے خفیہ کال پکڑی گئی،نئی منصوبہ بندی کا انکشاف

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اور ایک مبینہ بھارتی رابطہ کار کے درمیان ہونے والی گفتگو کو تکنیکی ذرائع سے انٹرسیپٹ کیا گیا ہے جس میں احتجاجی سرگرمیوں کو دوبارہ متحرک کرنے سے متعلق مبینہ منصوبہ بندی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تکنیکی ٹیم نے ایک گروپ کال کو انٹرسیپٹ کیا جس میں شوکت نواز میر، عمر نذیر، امان ادریس اور ایک نامعلوم شخص شامل تھے جس کی شناخت مبینہ طور پر اجے شری واستو کے نام سے کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مبینہ گفتگو میں اجے شری واستو نے جے اے اے سی قیادت کو بتایا کہ احتجاج کی مقبولیت اور رفتار میں تیزی سے کمی آ رہی ہے جس کے باعث دوبارہ عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی بنانے پر زور دیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گفتگو میں احتجاج میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور کہا گیا کہ یہ حکمت عملی توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ لوگوں نے اسے اپنی روایات کے خلاف سمجھا۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ کال میں ایسے حالات پیدا کرنے کی بات کی گئی جن میں خواتین اور بچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے لایا جائے جبکہ کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

کشمیر ڈیجیٹل کے مطابق مبینہ گفتگو کا مواد محکمہ داخلہ آزاد کشمیر اور آئی جی پی آزاد کشمیر کے دفتر کو فراہم کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعلقہ اداروں نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ منصوبے کو ناکام بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔