وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں بادلوں کے برسنے سے شدید گرمی یکسر غائب ہو گئی ہے اور گرج چمک کے ساتھ ہونے والی ہلکی بارش نے موسم کو انتہائی خوش گوار اور دلکش بنا دیا ہے۔ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں پھوار اور ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے سے جہاں شہریوں کے چہرے کھل اٹھے ہیں، وہیں دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک گیر سطح پر بارش، تیز آندھی اور سیلابی صورتحال کا ہائی الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق موجودہ موسمی نظام اس پیش گوئی کے عین مطابق ہے جو ادارے کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل ہی جاری کر دی گئی تھی۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر اور مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش، تیز ہوائیں، شدید آندھی، شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) سے پیدا ہونے والے سنگین سیلابی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے نے بارش ، آندھی و سیلاب کا الرٹ جاری کردیا
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی صورتحال:
آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بھی گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی، پونچھ، ہٹیاں، میرپور اور بھمبر شامل ہیں۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے اضلاع گلگت، سکردو، دیامر، استور، غذر، ہنزہ، گانچھے اور شگر بھی اس نئے موسمی سسٹم کے زیر اثر رہیں گے۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات:
ادارے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے حساس پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے شدید موسمی واقعات ندی نالوں میں طغیانی، مٹی کے تودے گرنے اور پہاڑی ملبے کے تیز بہاؤ کا سبب بن سکتے ہیں جس سے مقامی آبادیوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں طوفانی بارشوں کی پیش گوئی:
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور گرد آلود طوفانوں کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔ اس موسمی نظام سے متاثر ہونے والے دیگر شہروں میں راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، گجر خان، گجرات، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، فیصل آباد، خوشاب، جھنگ، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان شامل ہیں جہاں بادل برسنے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے لیے الرٹ:
خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور، کوہاٹ، پاراچنار، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بارش اور گرج چمک کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بلوچستان کے علاقوں تربت، کیچ، آواران، خضدار اور ژوب میں بھی بارش اور آندھی کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے اضلاع جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور، شہید بینظیر آباد اور کراچی میں تیز ہواؤں، گرد آلود طوفانوں اور کہیں کہیں بارش کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور سیاحوں کو سفر سے گریز کی ہدایت:
این ڈی ایم اے کے مطابق تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو حساس ترین علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکام نے سیاحوں اور مسافروں کو شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے افراد کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ روانگی سے قبل موسم اور سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال سے لازمی آگاہی حاصل کریں، کیونکہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے باعث شاہراہیں بند ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔




