فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ G کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی مقابلے میں مصر نے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی تاریخی فتح سمیٹ لی ہے. اسٹار فٹبالر محمد صلاح کی دوسرے ہاف میں شاندار کارکردگی کی بدولت مصر کا ورلڈ کپ میں جیت کا طویل ترین انتظار بالاآخر ختم ہو گیا ہے اور اس شاندار کامیابی کے بعد مصری ٹیم اب اگلے مرحلے (آخری 32) میں کوالیفائی کرنے کے بالکل قریب پہنچ گئی ہے.
میچ کے آغاز میں نیوزی لینڈ نے ایک حیران کن گول کر کے برتری حاصل کر لی تھی، تاہم مصری ٹیم نے شاندار کم بیک کیا. میچ کے 67 ویں منٹ میں محمد صلاح نے بہترین گول کر کے مصر کو سبقت دلائی، جس کے بعد صلاح کے شاندار کارنر پر ٹریزیگیٹ (Trezeguet) نے ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال کی راہ دکھا کر مصر کی 1-3 سے تاریخی جیت پر مہر ثبت کر دی. محمد صلاح نے ٹورنامنٹ کا آغاز کافی سست کیا تھا جہاں بیلجیم کے خلاف پہلا میچ ڈرا ہوا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی پہلا ہاف کافی خاموش رہا، لیکن جب ایسا لگ رہا تھا کہ صلاح کا ورلڈ کپ کا ڈراؤنا خواب برقرار رہے گا، تبھی 34 سالہ اسٹار نے لیونل میسی، کیلین ایمباپے، ارلنگ ہالینڈ اور ہیری کین جیسے بڑے کھلاڑیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایونٹ میں اپنی کلاس ثابت کر دی. 2018 کے ناکام ورلڈ کپ اور چار سال بعد قطر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پانے کے بعد، بالاآخر مصر کے اس عظیم ترین کھلاڑی کو دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر اپنا یادگار لمحہ مل گیا ہے. اب ایران کے خلاف صرف ایک پوائنٹ حاصل کرنے پر مصری ٹیم اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے گی، جبکہ امکان ہے کہ انہیں اس پوائنٹ کی بھی ضرورت نہ پڑے. میچ کے بعد محمد صلاح کا کہنا تھا کہ یہ تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز اور عظیم فتح ہے، یہاں کا ماحول شاندار ہے اور اب اگلا میچ ہمارے لیے انتہائی اہم ہے.
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ ، بیلجیئم اور ایران میں دلچسپ مقابلہ ، میچ ڈرا ہوگیا
ماضی کے تنازعات، چوٹیں اور ورلڈ کپ کی تلخ یادیں:
محمد صلاح کا اپنے کلب لیورپول میں آخری سیزن کافی مایوس کن رہا تھا جہاں اس وقت کے منیجر آرنے سلاٹ کے ساتھ ان کے اختلافات سامنے آئے اور انہوں نے رواں موسمِ گرما میں کلب چھوڑنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ان کا فیوچر تاحال غیر یقینی ہے اور ان کا نام دنیا بھر کے مختلف کلبوں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے. تاہم، صلاح ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنی پوری توجہ ملک کے لیے ورلڈ کپ مہم پر مرکوز کیے ہوئے تھے. یاد رہے کہ 2018 کے ورلڈ کپ میں وہ انجری کے باعث وقت کے خلاف دوڑ رہے تھے اور یوروگوئے کے خلاف پہلے میچ میں انہیں بینچ پر بیٹھنا پڑا تھا. اس کے بعد روس کے خلاف 1-3 کی شکست میں ان کا پنالٹی گول محض ایک تسلی تھا اور پھر سعودی عرب کے خلاف ایک آسان موقع گنوانے کے بعد مصر کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا. اس ناکامی کے بعد صلاح نے مصری فٹبال ایسوسی ایشن پر تیاریاں خراب کرنے کا الزام لگایا تھا اور ان کے انٹرنیشنل فٹبال چھوڑنے کی افواہیں بھی گرم تھیں. چار سال بعد وہ قطر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی بھی نہ کر سکے اور اتوار کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے پہلے 45 منٹ تک ایسا ہی لگ رہا تھا کہ ان کی یہ مایوسی برقرار رہے گی. یہاں تک کہ بیلجیم کے خلاف میچ کے دوران صلاح کو متبادل کھلاڑی کے طور پر باہر بلانے پر منیجر حسام حسن کو میچ سے قبل صلاح کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کرنا پڑی تھی. لیکن جب ایسا لگا کہ ایران کا میچ آخری آپشن ہوگا، صلاح نے میچ کا رخ بدل کر دنیا بھر میں موجود مصری فینز کو جشن منانے کا موقع فراہم کر دیا.
محمد صلاح مصر کے لیے ایک ہیرو :
محمد صلاح لیورپول کے لیے ایک سپر اسٹار ضرور رہے ہوں گے، لیکن مصر میں ان کا مقام اور مرتبہ اس سے کہیں زیادہ بلند ہے جہاں ان کے گیند کو چھوتے ہی اسٹیڈیم فینز کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے اور ہر میچ میں ان پر شدید دباؤ ہوتا ہے. اتوار کے روز نیوزی لینڈ کے خلاف کیا جانے والا گول ان کا اپنے ملک کے لیے 118 میچوں میں 68 واں گول تھا، جس کے بعد وہ اپنے ہی منیجر حسام حسن کے آل ٹائم سب سے زیادہ گول کرنے کے ریکارڈ سے محض ایک گول دور رہ گئے ہیں. کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر کا اہم ترین گول ہے کیونکہ اس کی بدولت مصر نے ورلڈ کپ میں جیت کا 92 سالہ طویل انتظار ختم کیا ہے. ٹوٹنہم کے سابق منیجر اینج پوسٹیکوگلو نے آئی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ٹیم پر مو (محمد صلاح) کے اثرات کے بارے میں کوئی شک تھا تو وہ اب سب نے دیکھ لیا ہے، اس جیت سے ٹیم کو ایک غیر معمولی حوصلہ ملے گا کیونکہ جب ٹیم مشکلات کا شکار تھی تو ان کے سب سے بڑے کھلاڑی نے ذمہ داری اٹھائی اور آگے بڑھنے کے لیے آپ کو ہمیشہ اپنے بڑے کھلاڑیوں کی ایسی ہی پرفارمنس کی ضرورت ہوتی ہے. جمیکا کے سابق ونگر جوبی میک اینف نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کو سب سے زیادہ ضرورت تھی، مو صلاح اپنی ٹیم کے لیے کھڑے ہو گئے.
وزیرِ صحت کی کالز اور ٹرافی کا طویل انتظار:
محمد صلاح گزشتہ 14 برسوں سے سینئر قومی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مصر کے لیے ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ زخمی ہوتے ہیں تو ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام بھی متحرک ہو جاتے ہیں. قومی ٹیم کے طبیب ڈاکٹر محمد عبود یاد کرتے ہیں کہ جب 2018 کے چیمپئنز لیگ فائنل میں ریال میڈرڈ کے خلاف میچ کے دوران صلاح کے کندھے پر شدید چوٹ آئی تھی اور ان کے روس ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا خدشہ تھا، تو انہیں خود مصر کے وزیرِ صحت کی طرف سے کالز موصول ہوئی تھیں. لیکن، لیورپول کو 2019-20 اور 2024-25 میں پریمیئر لیگ کا ٹائٹل جتوانے میں مدد کرنے کے باوجود، صلاح نے اب تک اپنے ملک کے لیے کوئی بڑی ٹرافی نہیں جیتی ہے. صلاح سے پہلی نسل نے 2006 اور 2010 کے درمیان مسلسل تین افریقا کپ آف نیشنز کے ٹائٹل جیتے تھے، مگر اس کے بعد مصر کو دو فائنلز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 2017 میں کیمرون اور 2021 کے ایڈیشن (جو 2022 کے اوائل میں ہوا) میں سینیگال کے خلاف ناکامی شامل ہے. تاہم، ورلڈ کپ کی اس تاریخی جیت نے مصر کے ماضی کے ایک بڑے خوف کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے.



