معروف تجزیہ کار اور دانشور مونا خان نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا اصل، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اور صرف پاکستان کے پاس ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذریعے آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو خراب کرنے، وہاں بدامنی پھیلانے اور آگ لگانے کی خطرناک سازشوں میں مصروف ہے ۔
اپنے ایک خصوصی اور تفصیلی بیان میں مونا خان نے واضح کیا کہ یہ نام نہاد ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں آزاد کشمیر کے پرامن اور پروقار ماحول میں انتشار اور افرا تفری پھیلا رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صحافی مونا خان نے لندن میراتھن ریس میں ’’گنیز ورلڈ ریکارڈ‘‘ حاصل کرلیا
یہ عناصر نہ صرف ریاستی امن کے دشمن ہیں بلکہ ملک کے اعلیٰ عدالتی فیصلوں اور آئینی اداروں کو تسلیم کرنے سے بھی مسلسل انکاری ہیں، جو کہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے امن کو کسی بھی صورت یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مونا خان کا کہنا تھا کہ یہ نشستیں مکمل طور پر ملک کے آئین، قانون اور تاریخی پس منظر کے عین مطابق ہیں ۔
کسی بھی شرپسند جتھے، گروہ یا انتشاری ٹولے کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر یا اپنی من مانی کرتے ہوئے ان قانونی اور آئینی نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرے یا اس حوالے سے دباؤ ڈالے۔ مہاجرین کی یہ نشستیں ان کی قربانیوں اور ریاست کے ساتھ ان کے لازوال رشتے کی علامت ہیں، جن کا تحفظ ہر سطح پر کیا جائے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:10خواتین کوہ پیماؤں نے 5400 میٹر بلند بری لا چوٹی سر کرلی، آزادکشمیر سے مونا خان شامل
انہوں نے حکومت، انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیس کیمپ میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایسے شرپسند عناصر اور ملک دشمن قوتوں کے آلہ کاروں کے عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی کسی بھی مہم کا حصہ نہ بنیں جو ریاست کی بقا اور ترقی کے خلاف ہو۔




