اسحاق ڈار

آبنائے ہرمز میں 60 روز تک ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا، اسحاق ڈار

اسلام آباد : پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی اور علاقائی سیاست کے حوالے سے غیر ملکی ٹی وی چینل  کو دئیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک بڑے اور اسٹریٹجک فیصلے کے تحت آئندہ 60 روز تک آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس سمجھے جانے والے اس بحری راستے میں ٹیکس کی معطلی کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے ۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی ایک تاریخی اور غیر معمولی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان، امریکا اور ایران جیسی دو بڑی مخالف طاقتوں کو باقاعدہ مذاکرات کے لیے ایک میز پر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ پاکستان نے یہ اہم سنگِ میل تنہا عبور نہیں کیا، بلکہ اپنے دیگر اہم عالمی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس وسیع اور پیچیدہ ثالثی کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے ۔

سفارتی کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور جنگی حالات خطے کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے تھے، جس نے نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگایا بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید منفی اور گہرے اثرات مرتب کیے ۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پسِ چلمن انتہائی اہم مذاکرات جاری ہیں، جن میں دونوں اطراف کی تین اعلیٰ سطحی تکنیکی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

یہ تکنیکی کمیٹیاں اس وقت دو سب سے اہم اور حساس ترین معاملات پر تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں، جن میں پہلا ایران کا جوہری معاملہ اور دوسرا مختلف عالمی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی باقاعدہ واپسی کا عمل ہے ۔

نائب وزیر اعظم کے مطابق، ان بنیادی امور کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ نازک صورت حال ، بالخصوص لبنان کے حالیہ بحران اورمجموعی علاقائی امن و استحکام کے معاملات بھی ان تکنیکی ٹیموں کے زیرِ بحث ہیں ۔