مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)حکومت آزاد جموں و کشمیر کی ہدایات کے مطابق تمام فکسڈ لائن ڈیٹا سروسز، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور متعلقہ ٹیلی کمیونیکیشن،ڈیٹا کمیونیکیشن سروسز کی معطلی میں مزید توسیع کر دی۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ٹیلی کام آپریٹرز اور لائسنس یافتگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ سروسز کی بندش 20 جون 2026 رات 11:30 بجے تک یا مجاز اتھارٹی کے آئندہ احکامات تک برقرار رکھیں۔
متعلقہ اداروں کو ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے اور صورتحال و تعمیل سے متعلق رپورٹ فوری طور پر فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی میں مزید توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کو ایل اے 30مظفرآباد کیلئے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری
یہ پابندی ابتدائی طور پر 6 جون سے عائد کی گئی تھی تاہم حالات کے پیش نظر اس کی مدت بڑھا دی گئی ہے جس کے باعث خطے میں گزشتہ دو ہفتوں سے مواصلاتی بلیک آؤٹ برقرار ہے۔
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے ریاست میں امن و امان قائم رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش میں مزید توسیع کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت وادی بھر میں موبائل ڈیٹا، براڈبینڈ اور دیگر ڈیجیٹل مواصلاتی ذرائع بدستور معطل رہیں گے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال اور مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومت نے یہ سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔
مختلف اضلاع میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں اور بعض رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی کا مقصد سوشل میڈیا پر فیک نیوز، افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
انٹرنیٹ کی طویل معطلی نے آزاد کشمیر کے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
حکومت نے سیاحوں کو 20 جون تک آزاد کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ایڈوائزری جاری کی تھی، جس سے مقامی ہوٹل اور سیاحتی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال معمول پر آئے گی، مانیٹرنگ سیل کی کلیرنس کے بعد مواصلاتی خدمات بحال کر دی جائیں گی۔ تاہم، تاحال بحالی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔




